ٹرمپ کئی ممالک پر سفری پابندیوں پر غور کر رہے ہیں: امریکی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے’رائیٹرز‘ ائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ممالک پر سفری پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی نے وائٹ ہاؤس کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس ہفتے اپنے پہلے 100 دنوں کی کامیابیوں کو اجاگر کریں گے، جب کہ اگلے سو دنوں میں وہ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں اور امن مذاکرات پر توجہ مرکوز کریں گے۔صدر کی جانب سے پالیسیوں میں تبدیلی نے ان کے اتحادیوں کو خوش اور مخالفین کو حیران کر دیا۔سماجی پالیسی کے شعبوں میں بھی انہوں نے نمایاں تبدیلیاں کیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ "ٹارپیڈو" کو چھپا رہے تھے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی داخلی اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات کی وسیع رینج میں زبردست تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے ٹیرف لگا ئے اور ملازمتوں میں کٹوتی کر کے وفاقی حکومت کے بجٹ میں کمی، سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں تنوع کے پروگراموں کو ختم کر کے عالمی اقتصادی نظام میں بھونچال پیدا کیا ۔ انہوں نےتعلیمی اداروں، قانونی اداروں اور عدالتوں پر بھی تنقید کی۔

وائٹ ہاؤس اپنے معاشی نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے، خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لانے اور ارب پتی ایلون مسک کے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی کے کام کو وفاقی بیوروکریسی کو صاف کرنے اور ان کے اخراجات کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

اہلکار نے کہا کہ ان کی پالیسیوں میں مزید ایگزیکٹو کارروائیاں شامل ہیں، جو ٹرمپ کے پہلے 100 دنوں کا ایک خاص ہدف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں