جنیوا میں اقوام متحدہ کے ملازمین کا ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ
اقوام متحدہ کے سینکڑوں ملازمین نے جمعرات کو جنیوا میں فنڈز میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایک بڑے ڈونر کے طور پر کٹوتیاں کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں ملازمین کی بڑی تعداد میں برطرفی ہوئی اور تنظیم کی طرف فے دنیا بھر میں فراہم کی جانے والی زندگی بچانے والی خدمات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ملازمین کی یونینوں اور انجمنوں کی طرف سے بلائی گئی ریلی میں جنیوا میں مقیم ایجنسیوں کے ملازمین، ان کے اہل خانہ اور حامی تیز دھوپ میں جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’اقوام متحدہ کے ملازمین کوئی جنس نہیں‘‘، ’’ ہم انسانیت کے ساتھ ہیں‘‘ ، ’’ اقوام متحدہ کے ملازمین کو برطرفیاں فوری بند کرو" اور ’’ حفاظت فراہم کرنے والوں کی حفاظت کرو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ احتجاج اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے سامنے والے پلازہ میں کیا گیا۔
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی ایک ملازمہ لینا، جنہوں نے اپنا پورا نام بتانے سے گریز کیا، نے کہا ہے کہ ہمیں کارکنوں کے حقوق کی حمایت کرنی ہے اور یہ بات کرنا بھی بہت مشکل بات ہے۔ واضح رہے جنوری میں امریکی صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے دنیا بھر میں انسانی تنظیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے مہاجرین اور تارکین وطن مخالف اقدامات نافذ کرنے کی کوشش کی ہے اور فوری طور پر امریکی غیر ملکی امداد کے زیادہ تر فنڈز کو منجمد کر دیا ہے۔
یاد رہے امریکہ ہمیشہ سے کئی ایجنسیوں کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ رہا ہے ۔ یہ ایجنسیاں اب اپنے بجٹ میں اچانک اور بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ کئی ایجنسیوں نے پہلے ہی اقوام متحدہ کے نظام میں کفایت شعاری کے اقدامات کے سنگین نتائج کی نشاندہی کی ہے۔
عالمی تنظیموں میں کارکنوں کی برطرفی
اقوام متحدہ کے ملازمین کی یونینوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین دنیا بھر میں اپنے عملے میں 30 فیصد تک کمی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین نے اعلان کیا ہے کہ اسے 6,000 سے زیادہ ملازمین کو برطرف کرنا پڑے گا جو اس کے افرادی قوت کا ایک تہائی سے زیادہ ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اپنی عالمی افرادی قوت میں 25 سے 30 فیصد تک کمی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (اوچا)، عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے مشترکہ پروگرام برائے ایچ آئی وی یا ایڈز میں بھی ہزاروں آسامیوں کو منجمد کیا جا رہا ہے۔ ملازمین کی یونینوں کے مطابق بہت سی دوسری ملازمتیں بھی خطرے میں ہیں۔
یونینز نے نشاندہی کی ہے کہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن میں تقریباً 10 میں سے 1 ملازمت ختم کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کو اپنے بجٹ میں 20 فیصد کمی کا سامنا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں کام کرنے والی ایلوڈی سابو نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونے کا خدشہ ہے۔