سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت نے آبی ذخائر کی گنجائش میں اضافے کے لیے کشمیر کے ہمالیائی علاقے میں دو ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے، یہ بات اس معاملے سے واقفیت رکھنے والے ذرائع نے رائٹرز کو بتائی۔ پہلگام واقعے کے نتیجے میں تازہ کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا۔
اسلام آباد نے معطلی پر بین الاقوامی قانونی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے، "پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی عمل تصور کیا جائے گا"۔

تینوں ذرائع نے بتایا کہ ذخائر کے پانی کی تہہ سے گارا نکالنے کے لیے "فلشنگ" (صفائی) کا عمل جمعرات کو شروع ہوا جو بھارت کی سب سے بڑی سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ اور جموں و کشمیر کے وفاقی علاقے کے حکام نے انجام دیا۔

آبپاشی اور پن بجلی پیدا کرنے کے لیے پاکستان کا زیادہ تر انحصار بھارت سے بہنے والے دریاؤں پر ہے۔ اس کام سے پاکستان کو فوری طور پر فراہمی میں رکاوٹ کا خطرہ نہیں ہو سکتا لیکن دوسرے منصوبے پر اسی طرح کی کوششیں شروع کرنے کی صورت میں یہ بالآخر متأثر ہو سکتا ہے۔

خطے میں اس طرح کے نصف درجن سے زائد منصوبے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان کو سلال اور بگلیہار منصوبوں پر کام کے بارے میں مطلع نہیں کیا جو بالترتیب 1987 اور 2008/09 میں ان کی تعمیر کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے کیونکہ معاہدے نے اس طرح کے کام کو روک دیا تھا۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

بھارت کی این ایچ پی سی اور ہمسایہ حکومتوں نے تبصرے کے لیے رائٹرز کی ای میلز کا جواب نہیں دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ فلشنگ کی کارروائی یکم مئی سے تین دن تک جاری رہی۔

ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، "اس طرح کی مشق پہلی بار ہوئی ہے اور اس سے بجلی پیدا کرنے کا عمل زیادہ مؤثر بنانے اور ٹربائنوں کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ہمیں صفائی کے لیے ایڈجسٹ ہونے والے گیٹ کھولنے کے لیے بھی کہا گیا جو ہم نے یکم مئی سے کیا۔" ذریعے نے مزید کہا کہ اس کوشش کا مقصد ڈیم کی کارروائی کو کسی بھی پابندی سے آزاد کرنا تھا۔

کشمیر کے بھارتی حصے میں دریائے چناب کے کنارے رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات سے ہفتہ تک سلال اور بگلیہار دونوں ڈیموں سے پانی چھوڑتے ہوئے دیکھا۔

'بھارت کی مرضی'

پن بجلی منصوبوں کی فلشنگ کے لیے تقریباً ایک ذخیرے کو خالی رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ گارا باہر نکالا جا سکے جس کا جمع ہو جانا پانی کی روانی میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ ہوتا ہے۔

مثلاً دو ذرائع نے بتایا کہ 690 میگا واٹ سلال پراجیکٹ کے ذریعے فراہم کردہ بجلی اس کی صلاحیت سے بہت کم تھی کیونکہ پاکستان نے اس طرح کی فلشنگ کو روکا تھا جبکہ گارا جمع ہونے سے 900-میگاواٹ کے بگلیہار منصوبے کی پیداوار بھی متأثر ہوئی تھی۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ "فلشنگ کوئی عام چیز نہیں ہے کیونکہ اس سے پانی کا بہت زیادہ ضیاع ہوتا ہے۔ زیریں ممالک کو مطلع کرنے کی توقع کی جاتی ہے اگر یہ وہاں کسی سیلاب کا باعث بنے۔"

دونوں منصوبوں کی تعمیر کے لیے پاکستان کے ساتھ وسیع پیمانے پر بحث کی ضرورت تھی جو اپنے حصے کے پانی سے محرومی کی فکر میں ہے۔

بھارت کے وزیرِ آب نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ "اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دریائے سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے"۔

دونوں طرف کے سرکاری حکام اور ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت پانی کو فوراً نہیں روک سکتا تاہم معاہدے کے تحت اسے پاکستان کے لیے مختص تین دریاؤں پر صرف پن بجلی گھروں کی تعمیر کی اجازت دی گئی ہے جو خاطر خواہ ذخیرہ کرنے والے ڈیموں کے بغیر ہو۔

بھارت کے سنٹرل واٹر کمیشن کے حالیہ سبکدوش ہونے والے سربراہ کشویندر ووہرا نے کہا، معطلی کا مطلب ہے کہ بھارت "اب اپنے منصوبوں کو اپنی مرضی سے آگے بڑھا سکتا ہے۔" انہوں نے پاکستان کے ساتھ سندھ تنازعات پر بڑے پیمانے پر کام کیا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے حالیہ برسوں میں اس معاہدے پر دوبارہ گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے اور روایتی حریفوں نے ہیگ میں ثالثی کی مستقل عدالت میں اپنے بعض اختلافات حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ خدشات خطے کے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی گھروں میں پانی ذخیرہ کرنے والے علاقے کے سائز سے متعلق ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں