یمن کے دارالحکومت میں صنعا ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملے میں ٹرمینل کی عمارات تباہ اور 500 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، یہ بات ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر نے بدھ کے روز حوثی میڈیا کو بتائی۔
انہوں نے قبل ازیں ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا، اسرائیلی حملوں میں "شدید نقصان" اٹھانے کے بعد ایئرپورٹ تا حکمِ ثانی تمام پروازیں معطل کر رہا ہے۔
اتوار کے روز تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب حوثی میزائل گرنے سے ایک گڑھا بن گیا جس کے بعد یہ حملے کیے گئے۔
ایئرپورٹ کے جنرل ڈائریکٹر خالد الشایف نے ملیشیا کے المسیرہ ٹیلی ویژن کو بتایا، "صنعاء ایئرپورٹ پر اسرائیلی جارحیت سے تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ دشمن نے صنعا ایئرپورٹ کے ٹرمینلز بشمول تمام آلات اور سامان تباہ کر دیئے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایک گودام بھی "مکمل طور پر مسمار ہو گیا۔"
انہوں نے کہا کہ یمن ایئرویز کے تین طیارے اور مجموعی طور پر چھے طیارے تباہ ہو گئے۔
انہوں نے کہا، "ایئرپورٹ کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے متبادل طریقے موجود ہیں اور ہمیں اس کی بحالی اور کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک طویل وقت درکار ہے۔"
ثالث عمان نے کہا کہ منگل کو حوثیوں اور امریکہ نے جنگ بندی پر اتفاق کیا جو بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے گی۔
لیکن اعلان کردہ معاہدے میں اسرائیل کا ذکر نہیں ہے جسے ملیشیا نے منگل کے حملوں کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یمنی ملیشیا نے غزہ جنگ میں حالیہ دو ماہ کی جنگ بندی کے دوران اسرائیل پر اپنے حملے روک دیئے تھے۔
مارچ میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے امداد کی ناکہ بندی پر انہوں نے جہاز رانی پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس پر امریکی فوج کا ردِعمل سامنے آیا جس نے حوثیوں کو تقریباً روزانہ فضائی حملوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔