امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آج منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض، پھر قطر اور امارات کی متوقع روانگی نے اسرائیل کے اندر بعض سوالات کو جنم دیا ہے، کیوں کہ اس دورے میں تل ابیب کو شامل نہیں کیا گیا۔
خاص طور پر اُس وقت جب کل امریکی-اسرائیلی فوجی عیدان الیگزینڈر کو حماس نے قطر اور مصر کے ذریعے ثالثی کے بعد رہا کر دیا۔
بعض اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے قیدیوں کی رہائی کے لیے کافی کوشش نہیں کی ... جب کہ دیگر کو اندیشہ ہے کہ امریکی صدر نیتن یاہو پر بعد میں دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ وہ ایسا معاہدہ تسلیم کریں جو غزہ میں جنگ کو "حماس کی مکمل شکست" سے پہلے ہی ختم کر دے۔ یہ بات امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے بتائی۔
مختلف منظر نامہ
یوئیل جوزانسکی، جو اسرائیلی قومی سلامتی کونسل میں خلیجی امور کے ماہر رہ چکے ہیں اور اب تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ "یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ٹرمپ کی حکومت خطے میں اسرائیلی مفادات سے دور ہوتی جا رہی ہے"۔
ان کے مطابق "امریکہ اس وقت خطے میں ایک ایسا منظر نامہ ترتیب دے رہا ہے جس میں لازماً اسرائیل شامل نہیں۔"
اسی حوالے سے بیت المقدس میں قائم اسرائیلی ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ یوحنان پلیسنر نے کہا کہ ٹرمپ کے اسرائیل کا دورہ نہ کرنے کا مطلب دونوں ملکوں کے تعلقات کا خاتمہ نہیں، تاہم یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ "ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں، اسرائیل کے نہیں۔"
بعض ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا ٹرمپ اپنے مشرقِ وسطیٰ کے دورے میں بیت المقدس یا تل ابیب کا بھی رخ کریں گے، لیکن صدر نے خود گزشتہ ہفتے کہا کہ ان کا اسرائیل کا کوئی پروگرام نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی یا انسانی امداد سے متعلق کوئی بڑی پیش رفت ہوتی تو شاید ٹرمپ اسرائیل کی شمولیت پر غور کرتے۔
تاریخی دورہ
یہ سوالات اور خدشات اُن اسرائیلی رپورٹوں کے بعد اٹھے ہیں جن کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے جوہری معاہدے، غزہ کی صورت حال اور امریکہ اور حوثیوں کے درمیان حالیہ معاہدے پر اختلافات موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے 13 سے 16 مئی تک کے اس سفر کو "خطے کی طرف تاریخی واپسی" قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ان کی دوسری صدارت کے دوران پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔