اسرائیل نے یمن سے داغا گیا میزائل روک لیا، یروشلم اور وسطی علاقوں میں خطرے کے سائرن
اسرائیلی فوج نےاعلان کیا ہے کہ یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ میزائل حملہ اس وقت سامنے آیا جب یروشلم اور وسطی قابض اسرائیل کے متعدد علاقوں میں سائرن بجنے لگے، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
فوجی بیان کے مطابق "قابض اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد ایک میزائل کو فضا میں کامیابی سے روکا گیا، جو یمن سے داغا گیا تھا۔"
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ اتوار کو اسرائیلی فوج نے یمن کے تین اہم بندرگاہی علاقوں راس عیسیٰ، الحدیدہ اور الصلیف میں انخلاء کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان اقدامات سے چند روز قبل اسرائیل نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی بڑا فضائی حملہ کیا تھا۔ یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل کے تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ کے نواح میں گرنے کے بعد کیا گیا۔
صنعا ایئرپورٹ پر بمباری سے قبل بھی قابض اسرائیلی فوج نے ایئرپورٹ کے اطراف کی آبادیوں کو خالی کرانے کے احکامات دیے تھے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023ء میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یمنی حوثیوں نے اسرائیل کے خلاف متعدد بار میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جو انہوں نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی حمایت میں کیے۔ ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے بھی یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یہ سلسلہ صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہا بلکہ حوثیوں نے امریکہ اور برطانیہ سے منسلک جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا، جو کہ ان دونوں ملکوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کا جواب تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے مارچ 2024ء میں یمن میں حوثیوں کے خلاف ایک بڑی فضائی مہم کا آغاز کیا، جس میں روزانہ کی بنیاد پر شدید حملے کیے گئے۔
تاہم تقریباً دو ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک ان حملوں کو روکنے کا اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد سلطنت عمان نے بتایا کہ وہ امریکہ اور حوثیوں کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدے کی ثالثی کر رہی ہے۔
حوثیوں نے عندیہ دیا کہ اگر امریکہ جنگ بندی کا احترام کرے تو وہ بھی اس کا پاس رکھیں گے، تاہم اسرائیل کے بارے میں ان کا موقف بدستور سخت اور واضح طور پر دشمنی پر مبنی ہے۔
اس معاہدے کے بعد ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ ان کا ملک اس امن معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور وہ یمن میں اپنے اہداف پر حملے جاری رکھے گا۔