اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعہ کو کہا کہ فلسطینی غزہ میں جنگ کا "ظالمانہ ترین مرحلہ" برداشت کر رہے ہیں جہاں طویل اسرائیلی ناکہ بندی میں جزوی نرمی کے بعد ایک درجن سے زائد غذائی امداد کے ٹرک لوٹ لیے گئے۔
جیسا کہ اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کے مقصد سے ایک نئے توسیعی حملے پر زور دیا ہے تو اس نے امداد کی محدود ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے بعد امداد ابھی جنگ زدہ علاقے میں واپس آنا شروع ہوئی ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے اہلکار محمد المغائر نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعہ کو اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 71 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ "درجنوں کے زخمی ہونے اور ملبے تلے دب جانے کے باعث افراد کی ایک بڑی تعداد کی گمشدگی کی اطلاع ہے۔"
اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا، "غزہ میں فلسطینی اس ظالمانہ تنازعے کا ظالمانہ ترین مرحلہ جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، اسرائیل کو انسانی بنیادوں پر "امدادی ترسیل کی اجازت دینے اور سہولت فراہم کرنے پر رضامند" ہونا چاہیے۔
انہوں نے رکاوٹوں کی طرف اشارہ کیا تاہم یہ بات نوٹ کی کہ حالیہ دنوں میں غزہ میں داخل ہونے کے لیے کلیئر کیے گئے تقریباً 400 ٹرکوں میں سے صرف 115 ہی جمع ہو سکے۔
انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا، "کسی بھی صورت میں اب تک منظور شدہ تمام امداد تعداد کے لحاظ سے ایک معمولی حصہ ہے جبکہ ضرورت امداد کے سیلاب کی ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوجی کارروائی میں شدت آتی جا رہی ہے جس میں ہلاکتیں اور تباہی ظالمانہ حد تک پہنچ چکی ہیں۔
عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے جمعہ کو کہا کہ اس کے 15 "ٹرک کل رات گئے جنوبی غزہ میں لوٹ لیے گئے جو ڈبلیو ایف پی کی مدد سے چلنے والی بیکریوں کی جانب گامزن تھے۔"
اسرائیلی حکام سے "غزہ میں خوراک کی زیادہ سے زیادہ اور تیز رفتار امداد پہنچانے" کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا، "مزید غذائی امداد آ رہی ہے یا نہیں، اس حوالے سے مایوسی اور اضطراب بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا باعث بن رہے ہیں۔"
دو مارچ سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی جس پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مذمت کے بعد پہلی بار غزہ کی پٹی کو امدادی ترسیل پیر کو دوبارہ شروع ہوئی۔
غزہ شہر کی بندرگاہ پر ایک بے گھر فلسطینی پناہ گزین صبحی غطاس نے کہا، "میں باضمیر لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمیں تازہ پانی اور خوراک بھیجیں۔ میری بیٹی آج صبح سے روٹی مانگ رہی ہے اور ہمارے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔"
فلسطینی علاقوں میں شہری امور کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے سی او جی اے ٹی (کوگاٹ) نے کہا کہ جمعرات کو 107 انسانی امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔
لیکن فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے جمعہ کو کہا کہ مارچ میں ختم ہو جانے والی چھے ہفتے کی جنگ بندی کے دوران اقوامِ متحدہ اوسطاً 500 سے 600 یومیہ ٹرک لایا تھا۔
انہوں نے ایکس پر کہا، "کسی کو بھی حیران نہیں ہونا چاہیے کہ قیمتی امداد لٹ گئی، چوری ہو گئی یا 'لاپتہ ہو گئی'۔ غزہ کے لوگ 11 ہفتوں سے زیادہ عرصے سے بھوکے ہیں"۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ گذشتہ روز اس نے غزہ میں "فوجی احاطوں، ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور نشانہ باز چوکیوں" پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ (فضائیہ) نے غزہ کی پٹی میں دہشت گردی کے 75 اہداف کو نشانہ بنایا۔"
فوج نے جمعہ کی سہ پہر کو کہا کہ غزہ کے قریب کمیونٹیز میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے تھے اور بعد میں یہ اطلاع دی گئی کہ "غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے والے ایک پروجیکٹائل کو فضائیہ نے روک لیا"۔
غزہ کے شمال میں العودہ ہسپتال نے جمعہ کو اطلاع دی کہ "اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون سے بم گرائے جانے کے بعد" ہسپتال کے تین اہلکار زخمی ہو گئے۔
سول ڈیفنس ایجنسی نے بعد میں کہا کہ اس نے ہسپتال میں لگی آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے اسرائیل کی بمباری کے بعد جنوبی غزہ میں تباہ شدہ عمارات کے اوپر دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے۔
ایک پریشان حال فلسطینی یوسف النجر نے کہا، "ہم پر رحم کرو۔ "ہم نقلِ مکانی اور بھوک سے تھک چکے ہیں - بہت ہو گیا!"
ان کے رشتہ دار مرکزی جنوبی شہر خان یونس میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
جمعہ کے روز غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ جنگ میں مجموعی طور پر 53,822 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔