غزہ جنگ کے مخالف کولمبیا یونیورسٹی سٹوڈنٹ محمود خلیل کی امریکہ بدری غیر آئینی قرار
نیو جرسی میں قائم عدالت کے جج نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم کی ملک بدری کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ یہ حکم بدھ کے روز ڈسٹرکٹ جج مائیکل فاربیارز نے جاری کیا ہے۔
تاہم جج نے کارروائی اگلے بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا آئندہ بدھ کو اس سلسلے میں مزید احکامات جاری کیے جائیں گے۔
خیال رہے کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم اور فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے مخالف محمود خلیل لوزیانا میں امیگریشن حکام کی حراست میں ہیں۔
محمود خلیل کو 8 مارچ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب امریکی محکمہ خارجہ نے اس کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا۔ گرین کارڈ کی یہ منسوخی امیگریشن قانون کے تحت کی گئی ہے۔
امیگریشن قانون کی ایک شق کے مطابق محکمہ خارجہ کسی بھی ایسے غیر ملکی کو ملک بدر کرنے کا اختیار رکھتا ہے جس کی ملک میں موجودگی خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف خیال کی جارہی ہو۔
محمود خلیل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے خلیل کی ملک بدری کی کوشش امریکی آئین میں پہلی ترمیم کے تحت دیے گئے حق آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔
فاربیارز نے اپنے آرڈر میں کہا ہے کہ وہ فی الحال اس بات پر حکم جاری نہیں کر رہے کہ آیا خلیل کی ملک بدری کے فیصلہ سے آئین کی پہلی ترمیم میں دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ خلیل کا اپنے اس استدلال میں کامیاب ہونے کا امکان ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے درخواست کی گئی قانونی شق اتنی مبہم ہے کہ غیر آئینی ہے۔
جج نے لکھا کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ایک 'عام آدمی' کو معلوم ہو کہ قانون امریکہ کے اندر اس کی تقریر کی بنیاد پر اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ مبینہ طور پر ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔
خلیل کے وکلاء کے علاوہ وائٹ ہاؤس ، دفتر خارجہ اور امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے محمود خلیل وہ پہلا غیر ملکی طالب علم تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی طلباء کو ملک بدر کرنے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان طلبہ نے غزہ میں ہونے والی ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور جنگ کے خلاف امریکی کیمپس میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تھا اور فلسطینیوں کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے تھے۔
شہریوں کے حقوق کے لیے سرگرم گروپوں کا کہنا ٹرمپ کی انتظامیہ نے غزہ میں اسرائیل کی جنگی مہم کو تنقید کانشانہ بنانے پر 30 طالب علم کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران 54000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
خلیل ایک فلسطینی ہے جس کی پیدائش اور پرورش شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ہوئی تھی۔ 2022 میں سٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں داخل ہوا اور گزشتہ سال اپنی اہلیہ نور عبد اللہ، جو کہ ایک امریکی شہری ہے کے ذریعے قانونی طور پر مستقل رہائشی کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔
وفاقی ججوں نے حالیہ دنوں میں کولمبیا یونیورسٹی کے ایک فلسطینی طالب علم محسن مہدوی اور میساچوسٹس یونیورسٹی میں ایک ترک طالب علم رومیسا اوزترک کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا ۔