فلسطین نواز احتجاجی رہنما محمود خلیل امریکی حراست سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کولمبیا یونیورسٹی کے ایک سابق طالبِ علم اور فلسطینی احتجاج کے نمایاں ترین رہنما محمود خلیل کو جمعے کو وفاقی حراستی مرکز سے رہا کر دیا گیا۔

امریکہ میں قانونی طور پر مستقل رہائش پذیر اور ایک امریکی شہری سے شادی شدہ خلیل کا ایک امریکی نژاد بیٹا ہے۔ انہیں ممکنہ ملک بدری کا سامنا تھا اور وہ مارچ سے زیرِ حراست تھے۔

ایک وفاقی جج کی جانب سے رہائی کا حکم دینے کے چند گھنٹے بعد فلسطینی کوفیہ رومال میں ملبوس خلیل نے جینا، لوزیانا میں ایک امیگریشن حراستی مرکز کے باہر امریکی میڈیا کو بتایا، "اس میں تین مہینے نہیں لگنے چاہئیں تھے۔"

انہوں نے کہا، "(صدر ڈونلڈ) ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے اس کے لیے غلط شخص کا انتخاب کیا۔ ایسا کوئی صحیح شخص نہیں ہے جسے نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لیا جائے۔"

محکمہ داخلی سلامتی نے جمعہ کے روز ڈسٹرکٹ جج مائیکل فاربیارز کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات کی مثال قرار دیا کہ کس طرح "عدالت کے بے قابو اراکین ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔"

رہائی کی شرائط کے تحت خلیل کو "خود اپنی مرضی سے ملک بدری" کے علاوہ امریکہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اس پر انہیں پابندیوں کا سامنا ہے کہ وہ ملک کے اندر کہاں سفر کر سکتے ہیں۔

خلیل کی اہلیہ اور مشی گن میں پیدا ہونے والی دندان ساز ڈاکٹر نور عبد اللہ نے کہا کہ ان کا خاندان اب "آخرِکار اطمینان کا سانس لے سکتا ہے اور ہمیں پتا ہے کہ محمود اب گھر آ رہا ہے۔"

عبد اللہ نے مزید کہا، "ہم جانتے ہیں کہ اس فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کی ہمارے خاندان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ شروع نہیں ہو جاتا اور اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کے خلاف بولنے پر حکومت کئی دیگر افراد کو خاموش کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔" ان کے ہاں جوڑے کا پہلا بچہ پیدا ہوا جبکہ خلیل زیرِ حراست تھے۔

امریکی سکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے 1950 کے عشرے کے ریڈ سکیئر کے دوران منظور شدہ ایک قانون کی درخواست کی ہے جو امریکہ کو ان غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی اجازت دیتا ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف ہوں۔

روبیو کا استدلال ہے کہ آزادی اظہار کے لیے امریکی آئینی تحفظ کا اطلاق غیر ملکیوں پر نہیں ہوتا اور وہ تنہا عدالتی نظرِ ثانی کے بغیر فیصلے کر سکتے ہیں۔

سینکڑوں طلباء نے اپنے ویزے منسوخ ہوتے دیکھے ہیں جن میں سے بعض کا خیال ہے کہ انہیں اپنی رائے پر مبنی مضامین لکھنے سے لے کر معمولی گرفتاری کے ریکارڈ تک ہر چیز کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

فاربیارز نے گذشتہ ہفتے فیصلہ سنایا تھا کہ حکومت خلیل کو روبیو کے اس دعوے کی بنیاد پر حراست میں نہیں لے سکتی یا ملک بدر نہیں کر سکتی کہ ان کی امریکی سرزمین پر موجودگی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

خلیل کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی بنیاد کے طور پر حکومت نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ان کی مستقل رہائش کی درخواست میں غلطیاں تھیں۔

امریکن سول لبرٹیز یونین آف نیو جرسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امول سنہا جو خلیل کی نمائندگی کرنے والے گروپوں میں شامل ہیں، نے رہائی کے حکم کا خیرمقدم کیا۔

سنہا نے کہا کہ "یہ جناب خلیل کے حقوق ثابت کرنے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے کیونکہ فلسطینیوں کے حقوق کی وکالت کرنے پر انہیں وفاقی حکومت کی طرف سے غیر قانونی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں