ایران سے دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افغان پناہ گزین واپس افغانستان پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کے سرحدی علاقے اسلام قلعه سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) نے بتایا ہے کہ جون کے مہینے میں دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افغان شہری ایران سے واپس اپنے وطن پہنچ چکے ہیں، جن میں سے اکثریت کو تہران نے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔

تنظیم کے ترجمان اواند عزیز آقا کے مطابق یکم جون سے 28 جون کے درمیان دو لاکھ 33 ہزار 941 افغان شہری ایران اور افغانستان کی سرحد عبور کر کے وطن لوٹے۔ ان میں سے صرف 21 سے 28 جون کے دوران ایک ہی ہفتے میں ایک لاکھ 31 ہزار 912 افراد واپس آئے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ 91 ہزار 49 افغان شہری ایران سے واپس آ چکے ہیں، جن میں سے 70 فیصد کو زبردستی واپس بھیجا گیا۔

ان افغان شہریوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یا تو ایران میں پیدا ہوئے یا کئی سالوں سے وہاں مقیم تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ان کی واپسی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف گزشتہ ہفتے بعض دنوں میں 30 ہزار سے زائد افراد نے سرحد عبور کی، تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر روزانہ چھ سے سات ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی بڑے پیمانے پر جبری واپسی کا سلسلہ دوبارہ تیز ہو جائے گا، کیونکہ تہران نے گزشتہ ماہ تقریباً 40 لاکھ غیر قانونی افغان شہریوں کو 6 جولائی تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

"مزید مشکلات کا اندیشہ"

ہفتے کے روز اسلام قلعه سرحدی گزرگاہ پر قائم استقبالیہ مرکز میں سامان اٹھائے متعدد افغان خاندانوں کو دیکھا گیا، جن کی واپسی تنظیم برائے مہاجرت نے ریکارڈ کی۔

ان مہاجرین کو افغانستان واپسی کے بعد شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان اس وقت دنیا کی دوسری بڑی انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے، اگرچہ ملک میں عمومی سکیورٹی صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ نے اس انخلا کی رفتار کو تیز کیا، تاہم فرانس پریس سے بات کرنے والے افغان مہاجرین نے واضح کیا کہ ان کی واپسی کی اصل وجہ ملک بدری کا خطرہ ہی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں