تنازعات سے دوچار دنیا میں پاکستان کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کتنا بڑا چیلنج ہو گا؟

توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران کم از کم دو کھلے اجلاس بلائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں یہ پاکستان کی آٹھویں مدت کار اور 2013 کے بعد اس کی پہلی صدارت ہے۔ اسلام آباد نے جنوری 2025 میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی موجودہ دو سالہ مدت کا آغاز کیا اور 2026 کے آخر تک کام کرے گا۔

تنازعات سے دوچار دنیا میں پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت گو کہ علامتی ہے لیکن وہ اہم اسٹریٹجک کردار ادا کر سکتا ہے۔

اگرچہ صدارت ماہانہ بنیاد پر گردش کرتی ہے اور اس کے پاس ایگزیکٹو اتھارٹی نہیں ہوتی ہے، لیکن یہ صدارتی عہدے پر فائز ملک کو کونسل کے ایجنڈے اور لہجے پر اثر انداز ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

ایسے وقت جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کئی اہم مسائل بالخصوص غزہ اور یوکرین جیسے مسائل پر تیزی سے تعطل کا شکار دیکھا جا رہا ہے، یہ عالمی پلیٹ فارم اہمیت کا حامل ہے۔ کثیرالجہتی میکانزم پر عالمی اعتماد میں کمی کے باوجود، پاکستان کی قیادت، خواہ یہ مختصر ہی کیوں نہ ہو، پر قریبی نگاہ ہو گی۔

توقع ہے کہ پاکستان جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران کم از کم دو کھلے اجلاس بلائے گا۔ ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ ان اجلاس میں آپریشن سیندور اور جموں و کشمیر کی صورتحال جیسے موضوعات کو زیر بحث لا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، عاصم افتخار احمد نے چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، ''پاکستان ایک ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے جا رہا ہے جب عالمی ہنگامہ خیزی، بڑھتے ہوئے تنازعات، پیچیدہ جغرافیائی سیاسی اور جیو سٹریٹیجک منظر نامے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

پاکستان کے مستقل نمائندے، عاصم افتخار احمد نے تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان بات چیت اور سفارت کاری کا پرزور اور مستقل حامی رہا ہے… ہم سلامتی کونسل کے کام میں ایک اصولی اور متوازن نقطہ نظر لائیں گے۔‘‘

انہوں نے کثیرالجہتی ادارے کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کا عہد کیا۔

بھارت کا ردعمل

پاکستان کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے سے ایک دن قبل پیر کو بھارت نے ایک بار پھر سرحد پار دہشت گردی میں اسلام آباد کی شراکت کا الزام دہرایا۔ اس حوالے سے اس نے پہلگام حملے کا ذکر کیا۔

گزشتہ اپریل میں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے میں چھبیس سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے اس کے لیے پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو مورد الزام ٹھہرایا لیکن اسلام آباد نے اس کی تردید کی اور واقعے کی عالمی جانچ پر زور دیا۔

بھارت نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں 'دہشت گردی کی انسانی قیمت‘ نامی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔ جس میں بین الاقوامی دہشت گردی کے مبینہ اسپانسر کے طور پر پاکستان کے کردار کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس نمائش کا مقصد اس تباہی کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرانا ہے، کہ دہشت گردی نے دنیا کو تباہ کر دیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف عالمی موقف تیار کرنا ہے۔

جے شنکر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو جائے کہ دہشت گردوں کو کسی قسم کی رعایت نہ ملے۔

انہوں نے کہا،''دنیا کو کچھ بنیادی تصورات پر اکٹھا ہو جانا چاہیے، دہشت گردوں سے کوئی رعایت نہیں، ان کے ساتھ پراکسی کے طور پر برتاؤ نہیں، اور جوہری بلیک میلنگ کے آگے جھکنا نہیں۔‘‘

بھارتی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ پہلگام حملے پر بھارت کا ردعمل دہشت گردی کے خلاف 'زیرو ٹالیرینس‘ کے پیغام کی نشاندہی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں