غزہ جنگ بندی کے دباؤ میں اضافہ، نیتن یاہو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اگلے ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے کیونکہ غزہ جنگ بندی کے لیے واشنگٹن کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے، یہ بات ایک امریکی اہلکار نے پیر کو بتائی۔

جنوری میں ٹرمپ کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد نیتن یاہو سات جولائی کو امریکہ کا تیسرا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ دورہ ٹرمپ کے یہ کہنے کے بعد ہو رہا ہے کہ وہ جنگ زدہ فلسطینی علاقے میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی کی امید رکھتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو اس دورے کی تصدیق کی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پہلے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات میں "دلچسپی کا اظہار" کیا اور فریقین "مقررہ تاریخ طے کرنے کے لیے بات کر رہے تھے۔"

لیویٹ نے ایک بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا، "جب سے صدر نے عہدہ سنبھالا ہے، غزہ میں اس وحشیانہ جنگ کا خاتمہ ان کی ترجیح رہی ہے۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل اور غزہ دونوں جانب سے سامنے آنے والی تصاویر بہت دلگیر ہیں اور صدر چاہتے ہیں کہ یہ ختم ہو جائے۔"

لیویٹ نے کہا، سینئر اسرائیلی اہلکار اور تزویری امور کے وزیر رون ڈرمر اس ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے ہیں جس کا مقصد نیتن یاہو کے دورے کی بنیاد رکھنے کے لیے گفتگو کرنا ہے۔

نتن یاہو فروری میں ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں ان سے ملاقات کرنے والے اولین غیر ملکی رہنما تھے جب امریکی صدر نے اچانک غزہ پر "قبضہ" کرنے کے لیے امریکہ کے منصوبے کا اعلان کر کے انہیں حیران کر دیا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپریل میں دوبارہ دورہ کیا تھا۔

ایران کے ساتھ اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے خاتمے سے اسرائیل کو ایک معاہدے کا موقع مل رہا ہے اور ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ان کی ثالثی میں طے شدہ حالیہ معاہدوں میں ایک اور امن معاہدے کا اضافہ ہو جائے۔

ٹرمپ نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا، "ہم سمجھتے ہیں کہ اگلے ہفتے بھی ہم ایک جنگ بندی معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔" انہوں نے اتوار کے روز اپنے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر ایک پوسٹ میں اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ "غزہ جنگ بندی کا معاہدہ کرے۔"

لیکن حقیقت میں اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کے لیے فلسطینی سرزمین پر اپنی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے پیر کے روز کم از کم 51 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں سے 24 ہلاکتیں ساحلی علاقے کی آرام گاہ میں ہوئیں۔

اس دوران ٹرمپ ہفتے کے آخر میں اسرائیل کے لیے امریکی امداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نظر آئے جب انہوں نے ملک کے پراسیکیوٹرز سے نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ نے پوسٹ کیا، "امریکہ ہر سال اسرائیل کی حفاظت اور حمایت کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے جو کسی بھی دوسرے ملک پر خرچ ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم اس بات کی حمایت نہیں کریں گے۔"

یاد رہے کہ اسرائیل کی مظالم میں غزہ میں کم از کم 56,531 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں