صدر دفتر کو واشنگٹن میں کسی اور جگہ منتقل کرنے کا ارادہ ہے: ایف بی آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایف بی آئی نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے واشنگٹن ہیڈ کوارٹرز کو پانچ عشروں پرانے موجودہ مقام سے کئی بلاکس کے فاصلے پر منتقل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

بیورو اور جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ رونالڈ ریگن بلڈنگ کمپلیکس کو نئے مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ کئی سالوں میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت ہے جہاں قانون نافذ کرنے والی ملک کی سب سے بڑی وفاقی ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر ہونا چاہیے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ اس طرح کا اقدام کب ممکن ہے یا اس مقصد کے لیے کس قسم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ایف بی آئی کے نووارد ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بیورو کی ایک ڈرامائی تنظیمِ نو سے متعلق اجلاس کی صدارت کی جس میں واشنگٹن سے ملازمین کی بڑی تعداد کی الاباما منتقلی بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس اعلان کو "ایف بی آئی کے لیے ایک تاریخی لمحہ" قرار دیا۔

سابق بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ایف بی آئی کی گرین بیلٹ، میری لینڈ میں منتقلی کے جس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا، یہ فیصلہ اس میں تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ قریبی ریاست ورجینیا کے مقابلے میں واشنگٹن کے مضافاتی مقام کا انتخاب کیا گیا۔ ایف بی آئی کا موجودہ پنسلوانیا ایونیو ہیڈکوارٹر جے ایڈگر ہوور بلڈنگ 1975 میں وقف کیا گیا تھا۔ ہیڈ کوارٹر کی منتقلی کے حامیوں نے کہا ہے کہ سفاکانہ طرز کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے جہاں پیدل چلنے والوں کو گرتے ہوئے ملبے سے بچانے کے لیے چاروں طرف جال لگے ہوئے ہیں۔ اس کی منتقلی کے لیے برسوں سے بات چیت جاری ہے۔

ایف بی آئی اور جی ایس اے نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہیڈ کوارٹر کو صرف چند بلاکس کے فاصلے پر کسی موجودہ عمارت میں منتقل کرنے سے واشنگٹن کے مضافاتی علاقے میں بالکل نئی عمارت تعمیر کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی جس میں ان کے بقول برسوں لگیں گے اور ٹیکس دہندگان کے لیے مہنگا ثابت ہو گا۔ جی ایس اے کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر سٹیفن ایکیان نے ایک بیان میں کہا، "ہوور کی عمارت میں ایف بی آئی کا موجودہ ہیڈ کوارٹر ایک سرکاری عمارت کی بہترین مثال ہے جس کی نگہداشت کئی سالوں سے زیرِ التوا ہے اور یہ پانی کے پرانے نظام سے لے کر عمارتی ڈھانچے سے کنکریٹ گرنے تک کے مسائل کا شکار ہے۔"

ریگن بلڈنگ میں دیگر کرایہ داروں کے ساتھ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کی عمارت بھی موجود ہے۔ یہاں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کا دفتر بھی تھا جس کا پیر کو ایک آزاد ایجنسی کے طور پر آخری دن تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں