ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کی 'برکس' کی طرف سے مذمت
غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ
پچھلے ماہ اسرائیل و امریکہ کے حملوں کی زد میں رہنے والے ایران کو اتوار کے روز 'برکس' کی طرف سے سفارتی حمایت کی بڑی کامیابی ملی ہے۔
'برکس' نے اپنے اہم اجلاس کے دوران اجتماعی طور پر ایران پر کیے گئے اسرائیلی و امریکی حملوں کی مذمت کی ہے اور اس امر کی بھی مذمت کی ہے کہ دونوں کی طرف سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
'برکس' کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے 'ہم اسلامی جمہوریہ ایران پر 13 جون 2025 سے ہونے والے فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی تھے۔'
تاہم میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس مذمتی بیان میں بطور خاص اسرائیل و امریکہ کا نام لیے بغیر مذمت کی گئی ہے۔
'برکس' کے اس بلاک کی طرف سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کرانے کے لیے متحرک مذاکرات کار اور ثالث جلد سے جلد اور غیر مشروط جنگ بندی کا اہتمام کریں۔ تاکہ 22 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔
بیان میں کہا گیا ہم فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذاکرات میں شامل رہیں اور مثبت امید کے ساتھ اپنے مذاکراتی عمل کو جاری رکھیں تاکہ جلد سے جلد نتائج آسکیں اور ایک مستقل و غیر مشروط جنگ بندی ہو سکے۔ جس کے تحت اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء ممکن ہو۔
'برکس' کی طرف سے یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب ثالثی کرانے والے ملکوں کے تعاون سے دوحا میں مذاکرات کا ایک اور دور شروع ہونے والا ہے۔
'برکس' کے اس بلاک کی طرف سے غزہ کے ساتھ ساتھ فلسطین کے دیگر مقبوضہ علاقوں سے بھی اسرائیلی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 57418 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے اور بطور خاص بچے اور خواتین شامل ہیں۔
یاد رہے 'برکس' میں روس اور چین شامل ہیں جبکہ ایران بھی اس کا رکن ہے۔
اس بیان کے اگلے ایک آدھ دن بعد ہی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ جنگ بندی پر گفتگو کے حوالے سے انتہائی اہم ہوگا۔