حوثی ملیشیا نے بدھ کے روز ایک تجارتی بحری جہاز ’ایٹرنیٹی سی‘ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جو پیر کے روز یمن کے ساحل کے قریب پیش آیا اور اس کے نتیجے میں جہاز سمندر میں غرق ہو گیا۔ یہ حملہ بحیرۂ احمر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران دوسرا واقعہ ہے۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے بتایا کہ جہاز کے عملے کے چند افراد کو بچا لیا گیا ہے، انہیں طبی امداد فراہم کی گئی اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
لائبیریا کے پرچم کے ساتھ چلنے والے اس جہاز ’ایٹرنیٹی سی‘ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں جہاز کے تین افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں چیف انجینئر، انجن روم کا ایک کارکن اور ایک تربیتی افسر شامل ہے۔
یورپی مشن "اسپیڈیس" کے مطابق، حملے میں کم از کم دو افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں ایک روسی الیکٹریشن بھی شامل ہے جس کی ٹانگ ضائع ہو گئی۔
بدھ کے روز "اسپیڈیس" نے مزید بتایا کہ جہاز پر سوار چھ افراد کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ انیس دیگر افراد تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
حوثی ملیشیا نے اتوار کے روز ایک اور تجارتی جہاز ’میجک سیز‘ پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جو ڈوب گیا تھا، تاہم اس کے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔