آذربائیجان کی طرف سے شام کو گیس برآمد کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وسط ایشیائی ریاست آذربائیجان نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شام کو گیس برآمد کرے گی۔ تاکہ شام میں توانائی کے سلسلے میں موجود قلت کا ازالہ کرنے میں مدد کی جا سکے۔

آذربائیجان کی طرف سے یہ اعلان ہفتہ کے روز صدر الہام الیف نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔

شامی حکام 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد ان دنوں ملک کی تعمیر نو کے لیے کوشاں ہیں اور ملکی معیشت کے انفراسٹرکچر کو نئے سرے سے بحال کر رہے ہیں۔

خانہ جنگی نے شام کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ توانائی اور بجلی کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے ملک میں 20، 20 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا عوام کو سامنا کرنا پڑا۔ اپنی توانائی کی ضرورتوں کے لیے شام کے صدر نے ہفتہ کے روز آذربائیجان کا دورہ کیا اور اپنے آذربائیجانی ہم منصب سے ملاقات کی۔

ایوان صدر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے دونوں ملکوں کے صدور توانائی کے معاملے پر تعاون کو بطور خاص زیر بحث لائے۔

کیونکہ شام کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ شام کو گیس کی فراہمی براستہ ترکیہ جلد شروع کی جائے گی۔ جو شام کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکے گی۔

ماہ مئی میں شام کے وزیر توانائی محمد البشیر نے کہا تھا کہ اب دمشق اور انقرہ کے درمیان قدرتی گیس کی فراہمی کے معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے اور یہ شام کے شمالی علاقوں میں پائپ لائن کے ذریعے منتقل کی جائے گی۔

آذربائیجان جو گیس سے مالا مال ملک ہے ترکیہ کا اہم اتحادی ہے۔ جس کے شام کی عبوری حکومت کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

آذربائیجان کے صدر بین الاقوامی سطح پر درپیش امور میں ترکیہ کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ شام کے معاملے میں بھی وہ ترکیہ کی رائے کے ساتھ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں