نیٹو سربراہ کا چین، بھارت اور برازیل کو انتباہ، روس سے کاروبار کیا تو پابندیاں لگائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ روس کے ساتھ چین، بھارت اور برازیل وغیرہ کی تجارتی سرگرمیاں نیٹو کی سطح پر قابل قبول نہیں ہوں گی۔ اس لیے ان تینوں ملکوں کو اقتصادی پابندیوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ان ملکوں نے روس کے ساتھ تجارت جاری رکھی تو ان پر ثانوی پابندیاں لگیں گی۔

نیٹو سربراہ حالیہ نیٹو کانفرنس کے بعد مسلسل خبروں میں ہیں۔ انہوں نے دو روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے اور یوکرین کے لیے امریکہ سے ہتھیار خریدنے کی ڈیل کی ہے۔ ان کا یہ چین، بھارت اور برازیل سے متعلق بیان ٹرمپ سے ملاقات کے اگلے ہی روز امریکی سینیٹرز سے ہونے والی ملاقات کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ بھی یوکرین کے لیے اسلحے اور روس اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والوں کے لیے اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اعلان میں روس کو پچاس دنوں میں یوکرین کے خلاف جاری جنگ روکنے کا الٹی میٹم دیا اور بصورت دیگر سو فیصد ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے دی۔

مشرق وسطی میں اسرائیلی جنگوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم ہوتی دیکھنے کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر یوکرین کو توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ مشرق وسطی میں اسرائیل کے چیلنجوں کی وجہ سے امریکہ کی ساری توجہ اسرائیل کے معاملات پر مرکوز ہو گئی تھی۔

نیٹو سربراہ نے انتہائی سخت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا' میری حوصلہ افزائی تین ملکوں کے لیے ہے کہ اگر آپ بیجنگ یا نئی دہلی میں ہیں یا آپ برازیل کے صدر ہیں تو آپ سب کو اس معاملے میں ضرور دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے آپ کو بہت سخت اقدام کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ انہوں نے اس سے ایک روز پہلے ٹرمپ سے ملاقات میں ان تینوں کے بارے میں سخت اقدامات کی پالیسی سے اتفاق کیا تھا۔ اب جس کا اظہار انہوں نے رپورٹرز سے گفتگو کے دوران کیا ہے۔

نیٹو سربراہ نے ان تینوں کی قیادت کو بالواسطہ مخاطب کرتے ہوئے کہا ' اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ براہ کرم پیوٹن کو فون کال کریں اور کہیں کہ اسے امن بات چیت کے لیے اب سنجیدگی ظاہر کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر ہم تینوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔'

اس موقع پر ری پبلکن سینیٹر تھام ٹیلیسب نے صدر ٹرمپ کی تعریف کی کہ انہوں نے روس کو پچاس دن کا الٹی میٹم دیا ہے اور دیگر اقدامات کا اعلان کیاہے۔

تاہم انہوں نے اس بارے میں تشویش ظاہر کی کہ پیوٹن اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرین جنگ جیتنے کی کوشش کرے گا اور زیادہ جارحیت کر کے اپنی پوزیشن کو مستحکم کر لے گا۔ اس لیے لازم ہے کہ ہم ان پچاس دنوں کے دوران بھی یوکرین کو نظر انداز نہ کریں اور اس کی مدد کے لیے سرگرم رہیں۔

روٹے نے اس موقع پر کہا یوکرین کی روس کے خلاف جنگی پوزیشن کو ممکنہ جنگ بندی مذاکرات سے پہلے مضبوط کرنے کے لیے یورپی ملکوں کو اس کے لیے رقوم کا بندوبست کرنا ہوگا۔

روٹے کی گفتگو اور پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یوکرین کے لیے اسلحہ ڈیل سے لگتا ہے کہ امریکہ یوکرین کے لیے بھی مشرق وسطی والا جنگ بندی مذاکرات سٹائل اپنانا چاہتا ہے۔ پہلے اسرائیل کو اسلحے سے مضبوط کیا اور پھر جنگ بندی کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔

روٹے نے اس موقع پر کہا یوکرین کے لیے دور مار میزائل فراہم کرنے کے معاملے پر غور جاری ہے۔ جو ہتھیار اب تک یوکرین کے لیے فائنل کیے ہیں ان میں بھی دفاعی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ جارحانہ ضرورت کے ہتھیار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں ہتھیاروں کی تمام اقسام شامل ہیں۔ مگر ہم تفصیل میں نہیں گئے۔ کیونکہ یہ کام صدر سے متعلق نہیں پینٹاگون اور یورپی کمانڈروں کے کرنے کا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں