امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نہیں جاہتے کہ یوکرین روسی دارالحکومت پر حملے کرے۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ ان کا یوکرین کو لانگ رینج میزائل فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کے روز امریکہ نے نیٹو کو بھاری اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان ٹرمپ روٹے ملاقات کے دوران کیا۔ نیز نیٹو سربراہ روٹے نے امریکی سینیٹروں سے منگل کے روز کہا کہ یوکرین کو دور تک مار کرنے والے میزائل دینے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔ اسی دوران ہی یہ باتیں بھی سامنے آگئیں کہ ٹرمپ یوکرینی صدر کی ماسکو پر حملوں کے لیے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ جس کی اب ٹرمپ نے ایک طرح سے تردید کی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے پوچھا کیا وہ ماسکو کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اگر واشنگٹن طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کرے تو ۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے یہ پوچھے جانے پر کیا زیلنسکی کو روسی دارالحکومت کو نشانہ بنانا چاہیے، ٹرمپ نے جواب دیا 'نہیں، اسے ماسکو کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔'
ٹرمپ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں اس سوال پر انہوں نے کہا' ہم ایسا نہیں چاہتے۔'
ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان رابطے سے آگاہ دو مختلف ذرائع کے حوالے سے فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے ایک دن بعد 4 جولائی کو امریکی سالگرہ کے روز زیلنسکی سے بات کرتے ہوئے یوکرین کو امریکی ساختہ ' ATACMS' میزائل بھیجنے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس دوران یہ بھی کہا وہ پیوٹن سے مایوس ہیں جو یوکرین پر ایسے حملے کررہے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس میں پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ مسترد کر دی ہے اور کہا ہے صدر ٹرمپ محض ایک سوال پوچھ رہے تھے، مزید حملوں کی حوصلہ افزائی بالکل نہیں کر رہے تھے۔ کیونکہ صدر ٹرمپ قتل و غارت روکنے اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہیں۔ اس سلسلے میں وہ انتھک محنت بھی کر رہے ہیں۔