امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اگلی جنریشن کے فضائی دفاعی نظام "پیٹریاٹ" کے حصول میں سوئٹزرلینڈ کے مقابلے میں جرمنی کو ترجیح دی ہے۔ اس طرح برلن کو اپنے دو "پیٹریاٹ" نظام یوکرین بھیجنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ یہ بات تین امریکی حکام نے "وال اسٹریٹ جرنل" اخبار کو بتائی۔
امریکہ کی طرف سے جرمنی کو یہ یقین دہانی کہ یوکرین کو بھیجے جانے والے پیٹریاٹ میزائلوں کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے گا، پہلا موقع ہے جب پینٹاگان نے ہتھیاروں کی فراہمی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے براہِ راست مداخلت کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
امریکی پیداوار کی لائن سے براہ راست جرمنی کو یہ نظام فراہم کر کے، پیٹریاٹ میزائلوں کی یوکرین کو فوری فراہمی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے، جو نیٹو کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے سے متعلق ٹرمپ کے عہد کے مطابق ہے تاکہ وہ امریکہ کی ان کوششوں میں شریک ہوں جن کا مقصد یوکرین کو زیادہ سے زیادہ اسلحہ مہیا کرنا ہے۔
"وال اسٹریٹ جرنل" نے ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مستقبل میں پیٹریاٹ کی ترسیل کے شیڈول کو دوبارہ ترتیب دے گی، اور ان اتحادی ممالک کو ترجیح دی جائے گی جو اپنی موجودہ ذخیرہ شدہ پیٹریاٹ میزائل یوکرین بھیجنے پر آمادہ ہوں گے۔
اخبار کے مطابق واشنگٹن آنے والے ہفتے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مزید سودے طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ یوکرین کے لیے اضافی اسلحہ مہیا کیا جا سکے۔ پیر کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نیٹو کے دفاعی رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل اجلاس کریں گے، جس میں یوکرین کو دی جانے والی امداد پر گفتگو ہو گی۔
بدھ کے روز ایک علیحدہ اجلاس بھی ہو گا جس میں اُن ممالک کو شامل کیا جائے گا جو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے مالک ہیں۔ اجلاس کی صدارت جنرل الیکسوس گرینکویچ کریں گے، جو یورپ میں نیٹو افواج کے اعلیٰ ترین کمانڈر اور امریکی یورپی کمان کے سربراہ ہیں۔
یورپی پالیسی تجزیہ مرکز کی صدر الینا پولیاکوفا نے کہا کہ "پیٹریاٹ نظام کی نئی پیداوار میں کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن یوکرین کو یہ صلاحیتیں ابھی درکار ہیں۔"
ترجیحات کی دوبارہ ترتیب
سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے پیٹریاٹ دفاعی نظام کی ترسیل کی ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یوکرین کو زیادہ امداد فراہم کی جا سکے۔
فی الحال یوکرین کے پاس پیٹریاٹ نظام کی صرف چند تعداد موجود ہے، جو امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے عطیہ کیے گئے تھے، اور وہ روس کے بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنے کے لیے مزید نظام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی اہل کار کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نیٹو کے رکن ممالک سے انفرادی سودوں کے لیے بات چیت کر رہی ہے تاکہ یوکرین کے لیے اسلحہ خریدا جا سکے۔ ان کوششوں کی نگرانی پینٹاگان کرے گا۔
یہ سودے صرف پیٹریاٹ میزائلوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ ان میں وہ تمام دفاعی و جارحانہ ہتھیار شامل ہوں گے جو نیٹو ممالک کئیف کو فراہم کریں گے، اور بعد میں ان کی جگہ نئے ہتھیار امریکہ سے خرید لیے جائیں گے۔ یہ بات "وال اسٹریٹ جرنل" نے بتائی۔
نیٹو کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ جرمنی، ناروے، ڈنمارک، نیدرلینڈز، سویڈن، برطانیہ، کینیڈا اور فن لینڈ پہلے ہی اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں، اور جیسے ہی اس منصوبے کی تفصیلات طے پا جائیں گی، دیگر یورپی ممالک بھی کیف کی مدد کے لیے اس مہم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بات اخبار نے یورپی حکام کے حوالے سے بتائی۔
-
پیٹریاٹ سسٹم کو یوکرین منتقل کرنے کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں: نیٹو
نیٹو کے سپریم ملٹری کمانڈر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ یوکرین کو تیزی سے پیٹریاٹ ...
بين الاقوامى -
یوکرین جنگ میں روسی ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی:برطانوی وزیر دفاع
برطانیہ کے وزیر دفاع جون ہیلی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ...
بين الاقوامى -
یوکرین کا روس پر یورپی یونین کی نئی پابندیوں کا خیر مقدم
یوکرین کی وزیرِ اعظم یولیا سویریڈینکو نے جمعہ کے روز روس کے خلاف پابندیوں کے 18 ...
بين الاقوامى