سعودی عرب میں خودکار گاڑیوں کا دور، ریاض کے سات اہم مقامات سے آغاز
یہ مرحلہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض شہر کے متعدد اہم مقامات کا احاطہ کرتا ہے
سعودی وزیر نقل و حمل و لوجسٹک خدمات اور جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے چیئرمین انجینئر صالح بن ناصر الجاسر نے بدھ کے روز ریاض میں خود کار گاڑیوں کے ابتدائی عملی مرحلے کا افتتاح کیا۔ یہ اقدام ایک اہم پیش رفت ہے جس کا مقصد مملکت کے نقل و حمل کے شعبے میں ایک محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام قائم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ قومی نقل و حمل و لوجسٹک حکمتِ عملی کے اہداف اور سعودی وژن 2030 کے تحت ایسے پائے دار حل اپنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں۔
یہ منصوبہ نقل و حمل و لوجسٹک کے شعبے اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہے، جن میں وزارتِ داخلہ، ڈیجیٹل معیشت، خلا و اختراع سے متعلقہ ادارے، سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی اتھارٹی (سدايا)، جنرل اتھارٹی برائے جغرافیائی معلومات، اور سعودی معیار، پیمائش و کوالٹی اتھارٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے سے تکنیکی و عملیاتی شراکت داروں جیسے کہ Uber، WeRide اور AiDriver کی بھی شرکت ہے۔
خودکار گاڑیاں اس مرحلے میں حقیقی عملیاتی ماحول میں چلائی جائیں گی، جس میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور ریاض شہر کے کئی اہم مقامات شامل ہیں۔ ان میں کچھ شاہ راہیں اور شہر کے مرکزی علاقے بھی شامل ہیں۔ گاڑیاں ایسے حالات میں آزمائی جائیں گی جہاں ان کے نظام کی کارکردگی کو حقیقی وقت میں پرکھا جا سکے۔ ہر گاڑی میں ایک حفاظتی اہل کار موجود ہو گا جو نظام کی نگرانی اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
یہ مرحلہ جنرل اتھارٹی برائے ٹرانسپورٹ کی براہِ راست تکنیکی و ریگولیٹری نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔ وزیر صالح الجاسر نے اس موقع پر کہا کہ اس ابتدائی مرحلے کا آغاز مملکت کی اس بلند نظری کا مظہر ہے جس کا مقصد ایک ذہین اور مربوط نقل و حمل کا نظام قائم کرنا ہے جو اقتصادی ترقی اور معیارِ زندگی کو بہتر بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو فعال بنانا اور اس کے لیے مناسب ریگولیٹری و آپریٹنگ فریم ورک تیار کرنا اس ٹیکنالوجی کے وسیع اطلاق کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ وہ رخ ہے جس پر مملکت نقل و حمل کے شعبے کو لے جا رہی ہے۔ یہ تمام کوششیں پائے داری کے فروغ، سفری کارکردگی میں بہتری اور مقامی اختراع کو فروغ دینے کے ضمن میں کی جا رہی ہیں۔
سعودی وزیر نے زور دیا کہ یہ منصوبہ سرکاری و نجی شعبے کے درمیان ایک مثالی شراکت داری کی نمائندگی کرتا ہے اور مستقبل میں زیادہ ذہین اور محفوظ نقل و حمل کے نظام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔