امریکہ اور اسرائیل کا اسرائیلی قیدی چھڑانے کے لیے متبادل آپشنز پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اسرائیل اور اس کا سب سے بڑے اتحادی امریکہ نے اب اس امر پر غور شروع کر دیا ہے کہ ان کی شرائط پر فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس جنگ بندی قبول نہیں کرتا تو اسرائیلی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے دیگر ممکنہ آپشنز کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔

یہ بات اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعہ کے روز کہی ہے۔ یہی عندیہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف نے بھی دوحہ سے امریکی مذاکراتی ٹیم کو واپس بلاتے ہوئے یہی بات کہی تھی۔

مبصرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ اس کے لیے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ٹینکوں کی تازہ نقل وحرکت اور فلسطینیوں کے خون ریزی میں تیزی کو مبصرین اسی سلسلے کی کڑیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔

امریکی نمائندہ وٹکوف نے دوحہ سے اپنی ٹیم کو واپس بلاتے ہوئے حماس پر الزام لگایا تھا کہ حماس معاہدے کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

یاد رہے حماس نے جمعرات کے روز امریکہ کی نئی تجاویز پر اپنا رسپانس دے دیا تھا تاہم اسرائیل حماس کی ترامیم سے اتفاق کرنے کو تیار نہیں۔ اب تک جو تجاویز زیر بحث رہیں ان میں 60 دنوں کی جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں رہائی کی تجویز نمایاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں