اسرائیل اور اس کا سب سے بڑے اتحادی امریکہ نے اب اس امر پر غور شروع کر دیا ہے کہ ان کی شرائط پر فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس جنگ بندی قبول نہیں کرتا تو اسرائیلی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے دیگر ممکنہ آپشنز کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔
یہ بات اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعہ کے روز کہی ہے۔ یہی عندیہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف نے بھی دوحہ سے امریکی مذاکراتی ٹیم کو واپس بلاتے ہوئے یہی بات کہی تھی۔
مبصرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ اس کے لیے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ٹینکوں کی تازہ نقل وحرکت اور فلسطینیوں کے خون ریزی میں تیزی کو مبصرین اسی سلسلے کی کڑیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔
امریکی نمائندہ وٹکوف نے دوحہ سے اپنی ٹیم کو واپس بلاتے ہوئے حماس پر الزام لگایا تھا کہ حماس معاہدے کے راستے میں رکاوٹ ہے۔
یاد رہے حماس نے جمعرات کے روز امریکہ کی نئی تجاویز پر اپنا رسپانس دے دیا تھا تاہم اسرائیل حماس کی ترامیم سے اتفاق کرنے کو تیار نہیں۔ اب تک جو تجاویز زیر بحث رہیں ان میں 60 دنوں کی جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں رہائی کی تجویز نمایاں ہے۔