ہم ایک آزاد، ترقی یافتہ اور خود مختار ریاست چاہتے ہیں : فلسطینی وزیر اعظم

محمد مصطفی کے مطابق فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا امن، سلامتی اور استحکام میں سرمایہ کاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفى نے زور دیا ہے کہ "دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس ایک ایسا موڑ ثابت ہونی چاہیے جو محض بیانات کو با قاعدہ عملی اقدامات میں تبدیل کرے"۔

پیر کے روز اقوامِ متحدہ میں "اسرائیل - فلسطین تنازع" کے دو ریاستی حل کو دوبارہ متحرک کرنے سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا "ہم ایک آزاد، ترقی یافتہ اور خود مختار فلسطینی ریاست چاہتے ہیں جس پر سب فخر کر سکیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنا دراصل امن، استحکام اور سلامتی میں سرمایہ کاری ہے"۔

"حماس کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے"

محمد مصطفى نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور غزہ پر اپنا کنٹرول ختم کر کے اسے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہو گا تاکہ جنگ سے تباہ حال اس علاقے میں امن بحال کیا جا سکے۔

فرانس پریس کے مطابق انھوں نے کہا "اسرائیل کو غزہ کی پٹی سے مکمل طور پر نکلنا چاہیے، اور حماس کو اپنا کنٹرول ختم کر کے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دینے چاہئیں"۔

محمد مصطفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ میں مکمل ذمے داری سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

فلسطینی وزیر اعظم کے مطابق "نسل کشی پر مبنی اس جنگ کو فوراً رکنا چاہیے"۔

"دو ریاستی حل کا کوئی متبادل نہیں"

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ "مشرق وسطیٰ میں امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے"۔

انہوں نے زور دیا کہ "دو ریاستی حل کا کوئی متبادل نہیں ... فلسطینی ریاست کا قیام ایک حق ہے"۔
گوتریس نے مزید کہا "فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکال دینا امن نہیں کہلا سکتا"۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطابق "فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیرقانونی ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے" ... اور اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی نشان دہی کی کہ فلسطینی اتھارٹی پہلے ہی کئی اہم اصلاحاتی اقدامات اٹھا چکی ہے۔

کم از کم 142 ممالک کا اعتراف

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ فرانس ستمبر میں با ضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تحت پیرس اور ریاض کی صدارت میں منعقدہ اس کانفرنس کا مقصد دو ریاستی حل کے عمل کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو کے مطابق، کانفرنس کے دوران دیگر مغربی ممالک بھی، جن کے نام انھوں نے ظاہر نہیں کیے، فلسطین کو تسلیم کرنے کے ارادے کا اعلان کریں گے۔

فرانس پریس کے اعداد و شمار اور تصدیق شدہ فہرست کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے کم از کم 142 ممالک پہلے ہی 1988 میں یک طرفہ طور پر قائم کی گئی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں