بیلجیئم نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اردن کی جانب سے ترتیب دی گئی اس سکیم میں شامل ہو رہا ہے جس کے تحت غزہ میں فضائی ذرائع سے انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ قحط کے دہانے پر کھڑا ہے۔
بیلجیئم کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے مطابق ایک بلجیم طیارہ طبی آلات اور غذائی اشیاء کے ساتھ جلد اردن روانہ ہو گا۔ امدادی سامان کی مالیت تقریباً چھ لاکھ یورو (یعنی 6 لاکھ 90 ہزار امریکی ڈالر) ہے اور یہ طیارہ عمان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فضائی امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہے گا۔
ادھر غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید 7 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کے بعد قحط سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 154 ہو گئی ہے، جن میں قریب 90 بچے شامل ہیں۔
منگل کو جاری کیے گئے "غذائی تحفظ کی مرحلہ وار درجہ بندی" کے انتباہ میں کہا گیا کہ غزہ میں بھوک کی شدت انتہائی حد کو پہنچ چکی ہے، اور غذائی کھپت اور غذائیت کی سطح جنگ کے آغاز کے بعد بدترین سطح پر ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ کے بعض علاقوں میں قحط کی تین میں سے دو عالمی سطح کی حدیں عبور کر چکی ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک (WFP) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے متنبہ کیا ہے کہ مکمل انسانی امدادی کارروائی کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "مسلسل جاری تنازع، بنیادی سروسز کی مکمل تباہی اور اقوام متحدہ پر عائد سخت پابندیاں، امداد کی ترسیل و تقسیم کو ناممکن بنا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد خوراک کے شدید بحران کا شکار ہو چکے ہیں"۔
غزہ کو اپنی تاریخ کی بدترین انسانی صورتحال کا سامنا ہے، جہاں قحط اور جنگ کا دائرہ ایک ساتھ پھیل رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے دو مارچ 2025ء سے تمام زمینی راستے بند کر رکھے ہیں اور غذائی و طبی امداد کی اکثریت کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں قحط نے شدت اختیار کر لی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی "انروا" پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ مارچ سے جون کے درمیان پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کی شرح دوگنی ہو چکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، غزہ میں غذائی قلت کی سطح نہایت تشویشناک ہے۔ محاصرہ اور امداد کی فراہمی میں تاخیر نے ہزاروں جانیں نگل لی ہیں اور غزہ شہر میں پانچ سال سے کم عمر ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔