مذاکرات پر مایوسی ... اسرائیلی میڈیا نے حماس کے جواب پر تل ابیب کے اعتراضات ظاہر کر دیے

اسرائیل نے فلاڈلفیا راہ داری سے انخلا، جنگ کے خاتمے، قیدیوں کی رہائی کی شرائط اور غزہ میں امداد کی تقسیم کے طریقہ کار سے متعلق حماس کے مطالبات مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق تل ابیب نے حماس کی جانب سے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ معاہدے پر دیے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے متعدد نکات پر اعتراضات جمع کروا دیے ہیں۔

اسرائیلی ٹی وی "چینل 12" کے مطابق اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واقع "فلاڈلفیا راہ داری " اور اسرائیل سے متصل "سیکیورٹی زون" سے انخلا کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ تل ابیب کے نزدیک ایسا کرنا جنوبی اسرائیل کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

اسرائیل نے حماس کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے پیش کیے گئے تناسب (ہر اسرائیلی کے بدلے کتنے فلسطینی رہا کیے جائیں) کو بھی مسترد کیا، کیونکہ اس سے دیگر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مشکل ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ تل ابیب نے رفح کی سرحد کھولنے اور امدادی اشیاء کی تقسیم کا طریقہ کار تبدیل کرنے، نیز "غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن" کے امدادی مراکز بند کرنے کے مطالبات بھی تسلیم نہیں کیے۔

اخبار "یسرائیل ہیوم" نے بتایا کہ حماس کی جانب سے اسرائیلی لاشوں کے بدلے زندہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا گیا۔

حماس کی یہ تجویز بھی مسترد ہو گئی کہ "سیکورٹی زون" کو محدود کیا جائے اور اسرائیلی فوج خان یونس اور رفح کے زیادہ تر حصوں سے واپس چلی جائے۔

اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" کے مطابق اسرائیل نے ثالثوں کو دی گئی دستاویز میں کہا کہ وہ جنگ بندی کی مدت (60 دن) کے دوران اپنی زیادہ تر فوج واپس بلانے کو تیار ہے، لیکن مکمل جنگ بندی کے لیے تیار نہیں۔

بدھ کی شام اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں مذاکرات کی صورت حال کو مایوس کن قرار دیا گیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے خبردار کیا کہ "معاہدے کی کھڑکی بند ہوتی جا رہی ہے اور اسرائیل زیادہ دیر تک صبر نہیں کرے گا۔"

مذکورہ چینل کے مطابق اسرائیل ممکنہ طور پر حماس کو معاہدے کے لیے مہلت دے گا، بصورت دیگر "غزہ کے ساتھ واقع حفاظتی پٹی" کو اسرائیلی حدود میں ضم کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

اسی دوران توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف جمعرات کی صبح اسرائیل پہنچیں گے، تاکہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور تعطل شدہ مذاکرات پر اسرائیلی قیادت سے گفتگو کی جا سکے۔

ایک اسرائیلی اہل کار کے مطابق ان کے دورے کا مقصد "معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے پر دباؤ ڈالنا" ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل اور امریکی ٹیمیں دوحہ سے مشاورت کے لیے واپس بلا لی گئی تھیں، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب نے حماس پر عدم سنجیدگی کا الزام عائد کیا تھا، جسے حماس نے مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں