امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے اعلان کیا ہے کہ وہ سنہ2026ء میں ریاست کیلیفورنیا کے گورنر کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔ ان کے اس فیصلے نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور یہ امکان مزید تقویت اختیار کر گیا ہے کہ وہ سنہ2028ء میں ایک بار پھر صدارتی انتخابی دوڑ میں شامل ہو سکتی ہیں۔
بدھ کے روز اپنے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کامالا ہیرس نے کہاکہ "گذشتہ چھ ماہ کے دوران میں نے اپنی قوم کے موجودہ تاریخی لمحے پر گہرا غور کیا ہے اور یہ سوچا ہے کہ امریکی عوام کی خدمت اور اپنے اصولوں کے دفاع کا سب سے مؤثر طریقہ کیا ہو سکتا ہے"۔
انہوں نے کہاکہ "میں نے سنجیدگی سے غور کیا کہ آیا مجھے کیلیفورنیا کے عوام کی خدمت کے لیے گورنر کی حیثیت سے انتخاب لڑنا چاہیے۔ میں اس ریاست اور یہاں کے لوگوں سے محبت کرتی ہوں۔ یہ میری جائے پیدائش ہے۔ تاہم گہرے غور و خوض کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس بار گورنر کے انتخاب میں حصہ نہیں لوں گی"۔
کامالا ہیرس کا یہ فیصلہ اس سیاسی غیر یقینی کو مزید تقویت دیتا ہے جو سنہ2024ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد ان کے سیاسی مستقبل کو گھیرے ہوئے ہے۔ انتخابی شکست کے بعد سے وہ یہ طے کرنے میں مصروف تھیں کہ کیا وہ کیلیفورنیا کی سیاست میں قدم رکھیں، ایک اور صدارتی دوڑ میں اتریں یا مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے الگ ہو جائیں۔
انہوں نے اگرچہ سنہ2028ء میں دوبارہ صدارتی امیدوار بننے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم ابھی تک وہ کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس سے قبل وہ سنہ2020ء اور سنہ2024ء کی صدارتی دوڑ میں ناکامی کا سامنا کر چکی ہیں۔
کملا ہیرس کے اس اعلان نے امریکی سیاسی حلقوں میں یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا وہ تیسری مرتبہ ملک کی صدارت کی امید وار بننے کی تیاری کر رہی ہیں یا نہیں۔