فن لینڈ کے صدر کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مشروط عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے کہا ہے اگر حکومت کسی ایسی تجویز کے ساتھ حکومت آگے بڑھتی ہے تو وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ پچھلے ایک سال سے فلسطینی ریاست کا کیس دنیا بھر میں مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔

گذشتہ سال تین یورپی ملکوں ناروے، سپین اور آئر لینڈ نے فلسطینی ریاست کو ماہ مئی میں تسلیم کیا تھا۔ اسرائیلی ریاست اور اس کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے تینوں ملکوں کے اس اعلان کو حماس کو انعام دینے کے مترادف قرار دیا تھا۔

اب ایک ہفتہ قبل فرانس کے صدر عمانویل میکروں نے اعلان کیا کہ ان کا ملک ماہ ستمبر میں جنرل اسمبلی کے متوقع اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔ ان کے بعد برطانیہ نے بھی ایک مشروط انداز کا اعلان کیا کہ وہ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے۔

علاوہ ازیں پرتگال وغیرہ نے بھی جنرل اسمبلی کو فلسطینی ریاست کے تسلیم کرنے کے حوالے سے اہم موقع کہا ہے۔اسرائیلی ریاست جو کہ فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کو تیار نہیں ان ملکوں کے اعلانات کو حماس کو انعام دینے کا نام دے رہی ہے۔

اس تناظر میں فن لینڈ کے صدر نے بھی 'ایکس' پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے فن لینڈ کے صدر کا انتخاب چھ سال کی۔مدت کے لیے ہوتا ہے ۔ صدر کے اختیارات محدود ہیں مگر خارجہ امور میں وہ حکومت کے ساتھ مربوط انداز میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

صدر الیگزینڈر نے غزہ میں پیدا کر دی گئی انتہائی بری صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہ اگر حکومت نے کوئی ایسی تجویز منظور کی کہ فلسطین کو تسلیم کیا جائے تو میں اس کی فوری منظوری دینے کا اہتمام کروں گا۔

انہوں نے کہا مجھے انداز ہے ملک میں اس سے مختلف سوچ پائی جاتی ہے ۔ مگر ہمیں اس موضوع پر ایک کھلی، منصفانہ اور دیانتدارانہ بحث کرانے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے انتہائی دائیں بازو کی مسیحی ڈیمو کریٹ جماعت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے۔ تاہم صدر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس موضوع پر بات چیت جاری رکھیں گے۔

فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹری اورپو نے ایک بار پھر دو ریاستی حل کے لیے بات کرتے ہوئے اس کی حمایت کی مگر فلسطینی ریاست کا نام لیے بغیر ایسا کہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں