جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے کہا ہے کہ غزہ کے انسانی بحران اور متعدد ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے رجحان کے باعث ... اسرائیل سفارتی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
اقلیت میں شامل
اسرائیل روانگی سے قبل جمعرات کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ کانفرنس جس کا موضوع "اسرائیل - فلسطین تنازع کا دو ریاستی حل" تھا اور جس کا امریکہ اور اسرائیل نے بائیکاٹ کیا، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ "اسرائیل خود کو بڑھتی ہوئی حد تک اقلیت میں پا رہا ہے۔"
اس تناظر میں سعودی وزارت خارجہ نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ابیلا کی جانب سے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا "مملکت ان مثبت فیصلوں کی تحسین کرتی ہے جو دو ریاستی حل کے راستے کو مضبوط کرتے ہیں، اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری فلسطینی عوام کی موجودہ تکالیف کو ختم کرنے کی ضرورت پر متفق ہے۔ مملکت ایک بار پھر دیگر ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھی اس نوعیت کے سنجیدہ اور امن کی حمایت کرنے والے اقدامات کریں"۔
اس سے قبل کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا "یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اہم اصلاحات کے عزم پر مبنی ہے، جن میں صدر محمود عباس کا حکمرانی کے نظام میں بنیادی اصلاح، 2026 میں عام انتخابات کرانے اور ریاستِ فلسطین کو غیر مسلح رکھنے کا وعدہ شامل ہے۔"
انہوں نے مزید کہا "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ امریکا سے آزاد تھا اور دیگر ممالک کی پیش رفت بھی اس میں اہم تھی۔" ان کا کہنا تھا کہ "کینیڈا خارجہ پالیسی کے فیصلے خود مختار طریقے سے کرتا ہے، اور جب ہمیں لگے کہ اثرانداز ہونے کا موقع ہے تو ہم قدم اٹھاتے ہیں۔ دو ریاستی حل حالیہ عرصے میں پس منظر میں چلا گیا تھا۔"
کارنی نے اپنے بیان میں غزہ میں انسانی بحران کو بدتر بنانے والے اسرائیلی اقدامات پر تنقید بھی کی۔
فلسطینی مسئلے کا پُر امن حل
واضح رہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس کی اختتامی دستاویز کی توثیق کر چکے ہیں اور تمام ممالک سے اس کی حمایت کی اپیل کی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا "یہ نتائج سیاسی، انسانی، سکیورٹی، اقتصادی، قانونی اور بیانیاتی پہلوؤں پر مشتمل جامع تجاویز کی عکاسی کرتے ہیں، اور دو ریاستی حل کے نفاذ اور سب کے لیے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط اور قابلِ عمل فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔"
انہوں نے "اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ ستمبر میں ہونے والے جنرل اسمبلی اجلاس کے اختتام سے قبل اس اختتامی دستاویز کی حمایت کریں۔"
اس دستاویز میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، 'اسرائیل - فلسطین تنازع' کے منصفانہ، پائے دار اور پر امن حل،اور دو ریاستی حل کے مؤثر نفاذ کی بنیاد پر ایک بہتر مستقبل کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے کے عوام کو فائدہ ہو۔
یہ 'دو ریاستی حل کانفرنس' نیویارک میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں تین روز تک منعقد ہوئی۔ اس کا مقصد ایسے ٹھوس اور ناقابلِ واپسی اقدامات کا تعین کرنا تھا جو فلسطینی مسئلے کے پر امن تصفیے کی طرف عملی پیش رفت کو یقینی بنائیں، اور جلد از جلد ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن بنائیں، تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کے ساتھ اپنی سرزمین پر باوقار زندگی میسر آ سکے۔ یہ بات سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے بتائی۔