سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شامی صدر احمد الشرع اور "ہیئت تحریر الشام" پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم دوسری جانب چین کی جانب سے ممکنہ ویٹو کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کو ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں صدر احمد الشرع اور شامی وزیر داخلہ انس خطاب کا نام دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ وہ فہرست ہے جو القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں پر عائد عالمی پابندیوں کے تحت تیار کی گئی ہے، جس میں شامل افراد کو بین الاقوامی سفر کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔
تجارتی سرگرمیوں میں آسانی کی کوشش
مجوزہ امریکی قرارداد میں شام میں تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے پابندیوں میں کچھ نرمی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس میں اسلحے پر عائد پابندی میں جزوی استثنا شامل ہے، جس کے تحت اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسیاں بارودی سرنگیں صاف کرنے جیسی سرگرمیوں کے لیے ضروری آلات استعمال کر سکیں گی اور انہیں دوہری استعمال کی پابندی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی قرارداد کے ابتدائی مسودے میں "ہیئت تحریر الشام" کو بھی پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کی تجویز شامل تھی، تاہم بعض سلامتی کونسل کے ارکان خصوصاً چین کی ممکنہ مخالفت کے پیش نظر امریکہ نے اس شق کو حتمی مسودے سے نکال دیا۔
اقوام متحدہ میں پہلا شامی صدارتی خطاب متوقع
امریکہ اب اس تنظیم کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خفیہ کمیٹی کے ذریعے نکالنے کی کوشش کرے گا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا احمد الشرع کا نام اقوام متحدہ کی آئندہ نیویارک میں ہونے والی سربراہی کانفرنس سے پہلے نکال دیا جائے گا یا نہیں۔ اس موقع پر وہ اقوام متحدہ سے خطاب کرنے والے پہلے شامی صدر بن سکتے ہیں، کیونکہ 1967ء سے اب تک کسی شامی صدر نے اقوام متحدہ سے براہِ راست خطاب نہیں کیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حال ہی میں "ہیئت تحریر الشام" کو امریکی فہرست سے بطور غیر ملکی دہشت گرد تنظیم نکال دیا تھا، اور اس فیصلے کو شامی حکومت کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کی قائم مقام سفیر ڈوروتھی شیا نے سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں مطالبہ کیا کہ "ہیئت تحریر الشام" پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیوں پر نظرِ ثانی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے پاس اختیار بھی ہے اور اسے چاہیے بھی کہ وہ پابندیوں کو اس طرح سے بدلے کہ شامی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو سکے، البتہ انتہائی خطرناک اور انتہا پسند عناصر کو پابندیوں کی فہرست میں شامل رکھا جائے۔