برطانوی پولیس نے اپنے ہاں بڑھتی ہوئی فلسطینی حمایت کو روکنے کے لیے کوششئں تیز کر ڈی ہیں۔ چند ہفتے قبل انسانی حقوق کے حوالے سے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والے تنظیم فلسطین ایکشن پر پابندی عائد کی تھی۔جس کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہے۔
اب ہفتے کے روز بتایا گیا ہے کہ اسی فلسطین ایکشن کے احتجاج کرنے والے 365 سے زائد حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے برطانیہ میں آجکل لیبر پارٹی کی حکومت ہے جو انسانی آزادیوں اور حقوق کے لیے زیدہ حساس سمجھی جاتی ہے۔
ان زیر حراست لیے گئے فلسطینی حامیوں میں سے بعض نے سیاہ اور سفید رنگ فلسطینی علامت پر مبنی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ جبکہ کئی دوسروں نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔
ان مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جو اسرائیل کو قابل قبول نہیں ہو سکتے ۔ پلے کارڈز پر لکھا تھا ' میں نسل کشی کا مخالف ہوں ' میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں۔ '
اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تردید کرتا ہے۔ یاد رہے اب تک غزہ میں اسرائیل نے اب تک ساڑھ اکسٹھ ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان میں دو سو وہ فلسطینی ہیں جو غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی سے پیدا شدہ قحط کا شکار ہو گئے ہیں۔
ان ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور سینکڑوں کے بھوک اور قحط کے شکار ہونے کے خلاف دنیا بھر میں اسرائیلی ریاست کی مذمت کی جارہی ہے۔ لندن میں ہفتے کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے شرکا پارلیمنٹ ہاوس کے نزدیک جمع تھے۔ جنہیں پولیس پکڑ پکڑ کر لے جا رہی تھی۔
مظاہرین اس دوران چیخ چیخ کر برطانیہ کی پولیس پر لعنتیں برساتے رہے۔ پولیس کے مطابق اس نے سات مزید افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے پانچ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ پولیس افسروں پر حملہ آور ہوئے تھے۔
تاہم کسی بھی پولیس افسر کے زیادہ زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
برطانیہ نے ماہ جولائی کے دوران فلسطین ایکشن پر پابندی لگائی تھی۔