ناروے کے خودمختار دولت فنڈ نے پیر کو کہا کہ وہ 11 اسرائیلی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری فروخت کر رہا ہے۔ یہ بیان اس اطلاع کے بعد سامنے آیا کہ ناروے نے ایک اسرائیلی جیٹ انجن بنانے والی کمپنی میں سرمایہ کاری کی ہے حالانکہ غزہ میں جنگ جاری تھی۔
اس فنڈ کا انتظام کرنے والے نورگس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (این بی آئی ایم) کے سربراہ نکولائی ٹینگن نے کہا کہ یہ فیصلہ "غیر معمولی حالات کے ردِ عمل میں کیا گیا۔"
ٹینگین نے ایک بیان میں کہا، "غزہ کی صورتِ حال ایک سنگین انسانی بحران ہے۔ ہم ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو ایک جنگ لڑنے مک میں کام کر رہی ہیں اور مغربی کنارے اور غزہ کے حالات حال ہی میں خراب ہو گئے ہیں۔"
انہوں نے کہا، اس اقدام سے ان اسرائیلی کمپنیوں کی تعداد کم ہو جائے گی جن کی نگرانی کے لیے فنڈ کی کونسل آف ایتھکس کی ضرورت ہے۔
ناروے کا دولت فنڈ آئل فنڈ کے نام سے بھی معروف ہے کیونکہ یہ ملک کی توانائی کی برآمدات سے ملنے والی وسیع آمدنی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا فنڈ ہے جس کی مالیت تقریباً 1.9 ٹریلین ڈالر ہے جس سے دنیا کے طول و عرض میں پھیلی 8,600 سے زیادہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے ناروے کے اخبار Aftenposten نے اطلاع دی کہ فنڈ نے اسرائیلی بیٹ شیمش انجن ہولڈنگز میں سرمایہ کاری کی تھی جو اسرائیلی لڑاکا طیاروں میں استعمال ہونے والے انجنوں کے پرزے بناتی ہے۔
ٹینگن نے بعد میں ان اطلاعات کی تصدیق کی اور کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد فنڈ نے اپنا حصہ بڑھا دیا تھا۔
ان انکشافات کی بنا پر وزیرِ اعظم جوناس گاہر سٹور نے وزیرِ خزانہ اور نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ سے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔
این بی آئی ایم نے کہا کہ اس نے اس سال کے ابتدائی چھے مہینوں کے آخر میں 61 اسرائیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی تھی جن میں سے 11 اس کے "ایکویٹی بینچ مارک انڈیکس" میں نہیں تھیں۔ یہ انڈیکس وزارتِ خزانہ مرتب کرتی ہے اور یہ دولت فنڈ کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
این بی آئی ایم نے مزید کہا کہ اس نے گذشتہ ہفتے فیصلہ کیا کہ "اسرائیلی کمپنیوں میں تمام سرمایہ کاری جو ایکویٹی بینچ مارک انڈیکس میں نہیں ہیں، جلد از جلد فروخت کر دی جائیں گی۔"
اخلاقی رہنما خطوط
آئندہ سے "اسرائیل میں فنڈ کی سرمایہ کاری اب ان کمپنیوں تک محدود رہے گی جو ایکویٹی بینچ مارک انڈیکس میں ہیں،" اس نے کہا۔
این بی آئی ایم نے یہ بھی کہا کہ بیرونی مینیجرز کے زیرِ انتظام اسرائیلی کمپنیوں میں تمام سرمایہ کاری کو اندرون ملک منتقل کر دیا جائے گا اور یہ کہ وہ "اسرائیل میں بیرونی مینیجرز کے ساتھ معاہدے ختم کر رہے ہیں۔"
اس کے علاوہ این بی آئی ایم نے کہا کہ وزارتِ خزانہ نے اس سے کہا تھا کہ وہ "اسرائیلی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری کا جائزہ لے اور نئے اقدامات تجویز کرے جو وہ ضروری سمجھے۔"
اس نے کہا کہ اس نے جائزہ شروع کر دیا ہے اور 20 اگست کی آخری تاریخ سے پہلے اپنے نتائج پیش کرے گا۔
فنڈ نے یہ بھی کہا کہ اس نے "طویل عرصے سے جنگ اور تنازعات سے وابستہ کمپنیوں پر خصوصی توجہ" دی ہے۔
این بی آئی ایم نے کہا، "2020 سے ہم یہ مسئلہ اٹھانے کے لیے 60 سے زیادہ کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان میں سے 39 مغربی کنارے اور غزہ سے متعلق تھے۔"
اس نے کہا کہ 2024 کے موسم خزاں میں اسرائیلی کمپنیوں کی نگرانی تیز کر دی گئی اور "اس کے نتیجے میں ہم نے کئی اسرائیلی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری فروخت کر دی ہے۔"
پیر کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سٹولٹن برگ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ نورگس بینک نے "تیز رفتاری سے عمل کیا"۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، "فنڈ کے اخلاقی رہنما خطوط یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا جو ریاستوں کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں شامل ہوں۔ اس لیے پنشن فنڈ ایسی کمپنیوں میں حصص نہ رکھے جن کا غزہ جنگ یا مغربی کنارے پر قبضے میں حصہ ہو۔"
پیر کے روز نارویجن پنشن فنڈ کے ایل پی نے کہا کہ اس نے اسرائیلی کمپنی NextVision Stabilized Systems کو "اپنی سرمایہ کاری سے خارج کر دیا کیونکہ یہ کمپنی غزہ کی جنگ میں استعمال ہونے والے فوجی ڈرونز کے لیے کلیدی اجزاء فراہم کرتی ہے۔"