اسرائیل پر پابندیاں لگانے میں رکاوٹیں، نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ عہدے سے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ہالینڈ کے وزیر خارجہ کاسپار فیلڈکیمپ نے جمعہ کی شام اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اسرائیل پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے حکومتی اجلاس میں اٹھنے والے تنازعے کے بعد سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے این پی‘ کے مطابق وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ وہ اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

پابندیوں کی تجویز اور اختلافات

فیلڈکیمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کے حامی ہیں۔ اس سے قبل جولائی میں ہالینڈ نے اسرائیلی انتہاپسند وزراء ایتمار بن گویر اور بتسلئیل سموٹریچ کو "ناپسندیدہ شخصیات" قرار دیا تھا۔

ہالینڈ ان 21 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر توسیعی بستیوں کے منصوبے کو "ناقابل قبول اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی" قرار دیا تھا۔

وزیر خارجہ کے مطابق ان کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیا لیکن کابینہ کی متعدد نشستوں میں انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے انہوں نے وزارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طور پر نبھانے کی صلاحیت پر انہیں اعتماد نہیں رہا۔

غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق

ادھر اقوام متحدہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ غزہ میں باضابطہ طور پر قحط کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد افراد "تباہ کن بھوک" کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس سنگین صورتحال کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے، جو 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ پر سخت محاصرہ مسلط کیے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں