آذربائیجان کے صدر بھی ٹرمپ کی امن پسندی سے گھائل، نوبل انعام کے لیے حمایت کر دی
صدر ٹرمپ جو اسرائیلی جنگ کے شدید حامی ہونے کے باوجود دنیا کی کئی طاقتور شخصیات اور ملکوں کو اپنی امن پسندی پر قائل کر چکے ہیں، اب آذر بائیجان کے صدر علیف بھی صدر ٹرمپ کی امن خدمات کے معترف ہو گئے ہیں۔
صدر الہام علیف کا کہنا ہے ڈونلڈ ٹرمپ واقعی نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔ یاد رہے دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں لڑ چکے ملک امریکہ کے عوام نے دوسری بار ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب کیا ہے اور وہ امن کوششوں کے وعدے کے ساتھ صدر بنے ہیں۔
الہام علیف نے کہا صدرٹرمپ افریقہ، ایشیا اور جنوبی قفقاز میں امن لاچکے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں امن کے نوبل انعام کے حقدار ہیں۔
کیونکہ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جوامن چاہتے ہیں۔ ' العربیہ ' کے لیے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر علیف نے کہا ہم نے آرمینیا کے ساتھ مل کر، ہم نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔
وہ ایک ایسے لیڈر جو مغربی رہنماؤں کی روایتی شناخت اور شبیہ سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کا انداز سب کے لیے فیاضی پر مبنی اور دوستانہ ہے۔ وہ تحائف دینے میں بھی بہت کھلے دل والے ہیں۔
خصوصی انٹرویو کے دوران علیف نے کہا ایک سیاست کار کے طور پر ٹرمپ کے بارے میں میرا رویہ ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ ان کے ساتھ ملاقات سے پہلے بھی اور ملاقات کے بعد بھی۔
صدر علیف نے ایک انتخابی معرکے میں ٹرمپ کی جیت چرائے جانے کا ذکر کیا اور کہا وہ دھوکہ دہی کی وجہ سے ایک مدت کے لیے صدر نہ منتخب ہو سکے تھے۔ مگر انہوں نے وقار اور اقدار کو نہ چھوڑا۔ ہمیشہ ہیندوستوں کے ساتھ پر وقار اور مہذب رہے۔
صدر ٹرمپ نے آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان 8 اگست کو ثالثی کرائی ہے۔ امن معاہدے پر دستخط کرائے۔
یاد رہے آذر بائیجان اور آرمینیا 1980 کی دہائی سے ایک دوسرے کے ساتھ تناؤ میں رہے ہیں ۔ آرمینیا نے آذر بائیجان کی پہاڑی سے جڑے علاقے میں آذر بائیجان کے خلاف کامیاب بغاوت کرا کے علیحدگی کرا دی تھی۔