"سوتیلی ماں نے زہر دیا" ... مصر میں باپ اور 6 بچوں کی ہلاکت کی تفصیلات سامنے آگئیں

سوتیلی ماں نے روٹی کے اندر زہر رکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری وزارتِ داخلہ نے اتوار کو المنیا صوبے میں ایک باپ اور اس کے چھ بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی تفصیلات جاری کیں۔ اس واقعے نے گزشتہ دنوں مصر کے عوامی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ باپ کی دوسری بیوی اس واقعے میں ملوث ہے۔ اس نے اپنے شوہر کی اولاد کو ختم کرنے کے ارادے سے اُن کے کھانے کے لیے تیار کی گئی روٹی میں زہریلا مواد ملایا تھا، کیونکہ شوہر نے حال ہی میں پہلی بیوی کو دوبارہ اپنے نکاح میں لے لیا تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہ خود سے الگ کر دی جائے گی۔

اس سے قبل بچوں کے چچا علی محمد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو بتایا تھا کہ گھرانے کی آخری ملاقات کھانے کی میز پر ہوئی تھی جہاں سب نے مل کر کھانا کھایا تھا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد منظر یکسر بدل گیا اور بیماری کی علامات کے ساتھ مصائب کی ایک لمبی کہانی شروع ہوئی، جس میں ایک کے بعد ایک بچے کو موت کو گلے لگانا پڑا۔

کھانے کے بعد بچوں کو متلی محسوس ہوئی۔ پہلے بچے کو بخار چڑھا تو اسے اسپتال لے جایا گیا، اور صرف دو گھنٹے بعد دوسرے بچے نے بھی متلی، پسینہ آنے اور کمزوری کی شکایت کی۔ کچھ ہی دیر میں تیسرے بچے پر بھی یہی علامات ظاہر ہوئیں۔

چچا کے مطابق پہلے تینوں بچے اچانک دم توڑ گئے، پھر چوتھا بچہ بھی انہی علامات کے بعد چل بسا۔ اس دوران پورا خاندان سکتہ میں تھا۔ بعد میں پانچویں بچی رحمہ بھی انہی علامات کا شکار ہوئی، ابتدا میں اس کی حالت بہتر رہی لیکن چند گھنٹوں بعد وہ بھی اپنے بہن بھائیوں کی طرح دم توڑ گئی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ چھٹی بچی بھی اُس وقت موجود تھی، جو اسپتال میں تمام طبی معائنے کروا رہی تھی، اور اس نے خود تصدیق کی کہ سب نے باہر سے منگوائی "الخبز الشمسی" ہی کھائی تھی۔

یہ واقعہ مصر میں ایک بڑے عوامی صدمے کا باعث بنا اور مختلف افواہیں پھیلیں کہ بچوں کی موت کی وجہ دماغی بخار تھا۔ تاہم مصری وزارتِ صحت نے اپنے سرکاری بیان میں ان خبروں کی تردید کی۔

وزارت نے وضاحت کی کہ مرکزی لیبارٹریز میں خون، پیشاب اور (CSF) کے تجزیوں کے نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ متاثرہ بچوں میں کسی بھی متعدی بیماری، بشمول وائرل یا بیکٹیریائی میننجائٹس کی کوئی موجودگی نہیں تھی۔ اسی طرح متاثرہ گھر سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ میں بھی وہ مکمل طور پر معیار کے مطابق پائے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں