"اسرائیل اور شام کے درمیان مذاکرات مثبت ہیں، مگرحتمی معاہدے کے لیے طویل سفر کرنا ہوگا"
سکیورٹی اور بارڈر پر توجہ، مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا امکان
شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹم برّاک نے بتایا ہے کہ اسرائیل اور شام "ایماندارانہ نیت کے ساتھ" ممکنہ سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن دونوں فریق ابھی تک حتمی مسودہ تیار کرنے سے دور ہیں۔
برّاک نے ویب سائٹ "اکسئیس" کو بتایا کہ "دونوں کے درمیان باہمی خیر سگالی کی خواہش موجود ہے، لیکن فی الحال مزید کام کی ضرورت ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ تعمیری مکالمہ طویل مدتی فہم کی بنیاد فراہم کرے گا، جو خطے میں استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا"۔
شام اور اسرائیل کی پیش رفت
شام کے صدر احمد الشرع نے اعلان کیا کہ شام اور اسرائیل کے وفود سکیورٹی معاہدے کے مذاکرات میں پیش رفت کر رہے ہیں۔
صدر الشرع نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ معاہدوں کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے اور وہ "کسی بھی فیصلے یا معاہدے سے ہچکچاہٹ نہیں کریں گے جو ملک کے مفاد میں ہو"۔
بارڈر اور اقتصادی تعاون
انہوں نے بتایا کہ زیرِ غور معاہدہ شام اور اسرائیل کی فوجوں کے درمیان گولان کی بلندیوں میں طے شدہ خطِ فصل پر مبنی ہوگا، جسے 1974ء میں مقرر کیا گیا تھا۔
صدر الشرع نے اقتصادی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی اور کہا کہ وہ کسی بھی فیصلے یا معاہدے کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے جو شام اور خطے کے مفاد میں ہو۔
پچھلے مذاکرات اور امریکی وساطت
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے 20 اگست کو پیرس میں اسرائیلی وزیر برائے اسٹریٹجک منصوبہ بندی، رون دیرمر کے ساتھ ملاقات کی تھی۔
یہ ملاقات امریکی وساطت کے نتیجے میں ہوئی، جس میں دونوں فریقین نے السویداء صوبے میں تناؤ کم کرنے اور جنوبی شام میں استحکام بڑھانے کے اقدامات پر بات کی۔
اسی دوران 1974ء کے معاہدے کی بحالی کے لیے واضح میکانزم بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
گولان میں اسرائیلی قبضہ
گذشتہ سات ماہ سے اسرائیلی فوج جبل الشیخ اور جنوبی شام کے بعض علاقوں میں 15 کلومیٹر چوڑا سکیورٹی زون قابض ہے اور 40 ہزار سے زائد شامی شہری اس زیرِ قبضہ علاقے میں مقید ہیں۔
اسرائیل 1967ء سے جولان کی بڑی سطح پر قبضہ کر رہا ہے اور 2024ء کے آخر میں سابقہ شامی نظام کے خاتمے کے بعد اس نے اپنی قبضہ شدہ زمین بڑھائی ہے۔