شمالی کوریا ہر سال 20 ایٹمی وار ہیڈز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے : جنوبی کوریا

واشنگٹن میں اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ "پیونگ یانگ نے ایسا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر لیا ہے جو امریکا تک پہنچ سکتا ہے".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے پر کام کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ ہر سال 10 سے 20 جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

لی جے نے یہ بیان پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کِم یونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

اسٹاکہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، پیونگ یانگ (شمالی کوریا) کے پاس اس وقت تقریباً 50 جوہری ہتھیار ہیں اور اس کے پاس اتنا مواد موجود ہے کہ وہ مزید 40 ہتھیار تک بنا سکے۔

صدر لی جے نے واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا "شمالی کوریا نے ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر لیا ہے جو امریکا تک پہنچ سکتا ہے، اور وہ مسلسل اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے تاکہ ہر سال 10 سے 20 ایٹمی بم تیار کر سکے۔"

انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے سیؤل نے شمالی کوریا کے خلاف سخت گیر پالیسی اپنائی تھی۔ ان کا کہنا تھا "ہم نے شمالی کوریا کو روکنے اور اس پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید آگے بڑھایا۔"

لی جے نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین سے چار برسوں میں شمالی کوریا کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک صرف روایتی ہتھیاروں پر انحصار کرتے ہوئے شمالی کوریا کو روکنے کے لیے پر عزم ہے۔

لی جے میونگ نے یہ بھی بتایا کہ وہ بعض ایسی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں اشتعال انگیز سمجھا جاتا ہے، جیسے سرحد پر لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے شمالی کوریا مخالف پیغامات نشر کرنا۔

صدر لی جے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے مہمان بنے، اس ملاقات سے پہلے ہی ٹرمپ نے کِم یونگ اُن سے دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اپنے مہمان پر تنقید بھی کی۔

ٹرمپ نے، جو اپنی پہلی صدارت کے دوران کِم سے تین بار ملے تھے ... کہا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ ان کا تعلق خاص رہا ہے۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا "میں انھیں تقریباً سب سے زیادہ جانتا ہوں، سوائے ان کی بہن کے۔"

بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لی جے میونگ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا "جنوبی کوریا میں کیا ہو رہا ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے تطہیر یا انقلاب چل رہا ہو۔ ہم یہ سب دیکھ کر اپنی سرگرمیاں وہاں جاری نہیں رکھ سکتے۔"

جب وائٹ ہاؤس میں ایک رپورٹر نے ان سے وضاحت پوچھی تو ٹرمپ نے کہا "خیر، میں نے سنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں گرجا گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔"

تاہم، لی جے کے استقبال کے دوران ٹرمپ نے لہجہ نرم کر لیا اور کہا "مجھے یقین ہے کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے"۔ انھوں نے اس معاملے کو "افواہیں" قرار دیا۔

امریکی صدر نے زور دیا کہ شمالی کوریا کے بارے میں ان کی اور جنوبی کوریا کے صدر کی رائے یکساں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں