غزہ اور خان یونس میں گھروں اور نقل مکانی کرنے والوں کے کیمپوں پر اسرائیلی حملے

العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے دیر البلح کیمپ کے بیچ میں ایک آباد گھر پر بم باری کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے۔ اسرائیلی فوج نے خاص طور پر غزہ شہر کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ابو اسکندر کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر بم باری ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ وہاں آگ بھی لگ گئی۔

اسرائیلی حملے میں غزہ شہر کے مغرب میں موجود نقل مکانی کرنے والوں کے خیمے بھی نشانہ بنے۔ فوج نے شیخ رضوان اور الجلاء کے علاقوں میں مسلسل فائرنگ جاری رکھی، جہاں حال ہی میں رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری ہوئے تھے۔

دیر البلح میں العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک آباد گھر پر بم باری کی، جس سے چند فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ جنوبی غزہ میں بھی بعض علاقوں پر حملے کیے گئے۔

غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں المواصی علاقے میں خیموں پر بم باری ہوئی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔
طبی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 78 تک پہنچ گئی ہے، اور بم باری کے جاری رہنے کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

ساحل کی جانب فرار

غزہ شہر کے رہائشیوں کے مطابق مقامی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر ساحل کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے شہر کے مشرق میں الشجاعیہ، الزيتون اور الصبرہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج غزہ شہر پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے۔ بین الاقوامی برادری اسرائیل سے اپیل کر رہی ہے کہ انسانی نقصانات کے خدشات کی وجہ سے اس کارروائی پر نظرثانی کرے، کیونکہ اس سے تقریباً ایک لاکھ فلسطینی دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے اسرائیل کی سرحدوں پر اچانک حملہ کیا۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 1200 افراد ہلاک اور 251 قیدی بن گئے۔

مذاکرات کے بعد زیادہ تر قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، لیکن 50 اب بھی قید ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔

اسرائیلی فوج کی یہ کارروائی، جسے اسرائیل حماس کے خلاف بتاتا ہے وسیع پیمانے پر تباہی اور تقریباً بیس لاکھ باشندوں کی نقل مکانی کا سبب بنی ہے۔ صحت کے حکام کے مطابق 62 ہزار سے زائد فلسطینی جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم مسلح افراد کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں