ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ غزہ شہر پر قبضے کے لیے فوجی منصوبوں کی منظوری کے لیے سکیورٹی کابینہ آج اتوار کو ایک اجلاس منعقد کرنے والی ہے۔ عہدیدار نے ”ماریف “ کو بیانات میں وضاحت کی کہ ایجنڈے میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ شامل نہیں ہے بلکہ صرف فوجی منصوبے شامل ہیں۔ معاریف نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ حماس جنگ کے خاتمے کے لیے شرائط پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
متعلقہ سیاق و سباق میں اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے عندیہ دیا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں اگلے ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی لہر کے جواب میں مغربی کنارے پر خودمختاری نافذ کرنے پر بھی بات کی جائے گی۔ طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ کل صبح سے غزہ کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 85 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں نے الرمال محلے اور غزہ شہر کے مغرب میں الشاطی پناہ گزین کیمپ اور شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیا پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ایک فلسطینی ذریعے نے ”العربیہ“ کو بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ غزہ کی پٹی میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے دوران مارے گئے ہیں۔
مصدر فلسطيني للعربية: مقتل الناطق باسم كتائب القسام أبو عبيدة بقصف إسرائيلي على شقة بغزة #قناة_العربية#أخبار_الصباح pic.twitter.com/A6Fxz9b3SH
— العربية (@AlArabiya) August 31, 2025
فلسطینی ذریعے نے مزید کہا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں اپارٹمنٹ میں موجود تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ابو عبیدہ کے خاندان کے افراد اور القسام بریگیڈ کے رہنماؤں نے لاش کا معائنہ کرنے کے بعد ان کی موت کی تصدیق کی۔
اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کا اعلان کیا تھا
غزہ کی پٹی میں جنگ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حماس کے حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ایک شمار کے مطابق 1,219 اسرائیلی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اسی دن غزہ پر بمباری شروع کردی تھی۔ غزہ میں تاریخ کا بدترین قتل عام کیا جارہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں 63,300 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔