غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے شدید فضائی حملے
چوبیس گھنٹوں کے اندر اسرائیلی حملوں میں 90 فلسطینی جاں بحق : طبی ذرائع
غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے شدید فضائی حملے بدستور جاری ہیں، جن میں شمالی اور جنوبی حصوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں جبالیا البلد، جبالیا النزاع اور شیخ رضوان کے مشرقی علاقے میں کئی عمارتوں کو اڑا دیا۔ اسی دوران جنوبی غزہ میں خانیونس میں بھی دھماکے سے تباہی کی کارروائیاں کی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی راہ داری "موراج" پر امداد کے منتظر فلسطینیوں کو بھی نشانہ بنایا، جس میں پانچ افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں نوّے فلسطینی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے کہا کہ فوج جارحانہ انداز میں کارروائی کر رہی ہے، اور اس وقت ہر محاذ پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ شمالی محاذ کے ہیڈکوارٹر میں جائزہ اجلاس کے دوران زامیر نے کہا کہ اسرائیل خود پہل کر رہا ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ہدف تک پہنچ رہا ہے۔ انھوں نے بیرونِ ملک موجود حماس کے رہنماؤں کو بھی دھمکی دی کہ ان تک بھی پہنچا جائے گا۔ اسرائیل نے ہفتے کے روز حماس کے ایک بڑے رہنما اور القسام بریگیڈز کے ترجمان "ابو عبیدہ" کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس میں اعلان کیا کہ غزہ پر قبضے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور فوج نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
ابو عبیدہ کی ہلاکت کے حوالے سے نیتن یاہو نے حماس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس کی موت کا اعلان کرنے میں تاخیر کی، اور یہ کہ اسرائیلی فوج نے ابو عبیدہ کو نشانہ بنایا اور اب اس حملے کے نتائج کا انتظار ہے۔
حوثیوں پر حملے کے بارے میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ محض شروعات ہے۔ انھوں نے اپنی حکومت کی "کامیابیاں" گنواتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کو نشانہ بنایا، لبنان میں حزب اللہ پر حملے کیے اور شام میں بھی فوجی کارروائی کی، اگرچہ اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
نیتن یاہونے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے اپنے قیام کے بعد سب سے بڑے وجودی خطرے، یعنی ایرانی جوہری منصوبے کو ختم کر دیا ہے ... اور یہ کہ ایران کے محور کو علاقے میں توڑنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔