اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دو ریاستی حل کے اعلان کی بھاری اکثریت سے حمایت کر دی

قرارداد کے حق میں 142 ووٹ ، مخالفت میں 10 ووٹ آئے، 12 ممالک نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک ایسے اعلان کی حمایت میں ووٹ دے دیا جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس، وقت پر مبنی اور ناقابل واپسی اقدامات کا تعین کرتا ہے۔ یہ فیصلہ نیویارک میں عالمی رہنماؤں کی ایک کانفرنس سے قبل کیا گیا۔ اس اعلان کی حمایت کرنے والی قرارداد کے حق میں 142 ووٹ، اس کے خلاف 10 ووٹ آئے اور 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ جن ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا ان میں۔ امریکہ، اسرائیل، ارجنٹائن، ہنگری، پیراگوئے، ناؤرو، مائیکرونیشیا، پلاؤ، پاپوا نیو گنی اور ٹونگا شامل ہیں۔

جن ممالک نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا، ان میں چیک جمہوریہ، کیمرون، جمہوریہ کانگو، ایکواڈور، ایتھوپیا، البانیہ، فجی، گوئٹے مالا، ساموا، شمالی مقدونیہ، مالڈووا، اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔ اس قرارداد نے غزہ میں شہریوں، شہری انفراسٹرکچر، محاصرے اور بھوک کا باعث بننے والے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ ساتھ ہی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ غزہ کی جنگ کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔ سات صفحات پر مشتمل یہ اعلان گزشتہ جولائی میں اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا نتیجہ ہے جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس نے کی تھی۔ اس کانفرنس کا مقصد فلسطینی-اسرائیلی تنازع پر بات چیت کرنا تھا۔

فلسطینیوں کا خیرمقدم

فلسطینی صدر کے نائب حسین الشیخ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کا خیرمقدم کیا اور اسے قبضے کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ حسین الشیخ نے کہا ہے میں دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں نیویارک اعلامیہ کی قرارداد کو اپنانے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ ہمارے لوگوں کے حقوق کی حمایت میں بین الاقوامی ارادے کا اظہار کرتا ہے اور قبضے کو ختم کرنے اور ہماری آزاد ریاست کو 1967 کی سرحدوں پر قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

فلسطینی نائب صدر نے مزید کہا کہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے والے بین الاقوامی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد لوگوں کے حق خود ارادیت کو مضبوط بنانے اور دو ریاستی حل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کو فروغ دے گی۔

12 ملک فلسطین کو تسلیم کریں گے

ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس پر چھایا ہوا ہے جبکہ تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست کو 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک فرانسیسی- سعودی کانفرنس کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔ انفرادی رہنما بھی 23 سے 29 ستمبر تک منعقد ہونے والے عوامی مباحثے کے اجلاسوں کے دوران جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اپنے فیصلوں کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

واضح رہے جولائی کے آخر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک 9 سے 23 ستمبر تک ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران ریاست فلسطین کو تسلیم کر لے گا۔ اس کے بعد سے 12 سے زیادہ مغربی ملکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس کی پیروی کریں گے۔

ان اعلان کرنے والے ملکوں میں بیلجیم، مالٹا، برطانیہ، پرتگال، فن لینڈ، لکسمبرگ، کینیڈا اور جرمنی شامل ہیں۔ ریاض اور فرانس نے اس دو ریاستی حل کی کانفرنس کی قیادت کی جو گزشتہ جون میں شروع ہوئی تھی۔ اس میں فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل اور غزہ میں بھوک پھیلانے کی مذمت پر وسیع بین الاقوامی اتفاق رائے پایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں