نیپال کے صدر رام چندر پاوڈیل کے دفتر نے جمعہ کے اواخر میں کہا کہ انہوں نے ملکی پارلیمنٹ تحلیل کر دی اور اگلے سال پانچ مارچ کو نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔ ایک ہفتے کے مہلک اور پرتشدد مظاہروں کے بعد عبوری طور پر ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کا تقرر کیا گیا ہے۔
پاوڈیل نے سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کو ملک کی سربراہی کے لیے مقرر کیا جس کے چند گھنٹے بعد یہ اعلان سامنے آیا۔ قبل ازیں "جنریشن زی" کی قیادت میں وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی کے خلاف بدعنوانی کے خلاف مہلک مظاہروں نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔
صدر کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انہوں نے "ایوانِ نمائندگان تحلیل کر دیا اور انتخابات کے لیے پانچ مارچ 2026 کا دن مقرر کیا۔"
پاوڈیل، فوج کے سربارہ اشوک راج سگڈیل اور نیپال میں برسوں میں ہونے والی بدترین احتجاجی بغاوت کے رہنماؤں میں دو دن تک شدید مذاکرات ہوئے جن کے بعد کارکی کا تقرر کیا گیا۔ مظاہروں میں کم از کم 51 افراد ہلاک اور 1,300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
نیپال کے جنوبی ہمسایہ ملک بھارت نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت سے امن و استحکام کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
"محترمہ سشیلا کارکی کو نیپال کی عبوری وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد۔ بھارت نیپالی بھائیوں اور بہنوں کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے،" بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا۔
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کی وجہ سے ملک گیر مظاہرے شروع ہو گئے تھے جو بعد میں واپس لے لی گئی۔ منگل کو اولی کے مستعفی ہونے کے بعد ہی تشدد میں کمی آئی۔
نیپال 2008 میں بادشاہت ختم ہو جانے کے بعد سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے جبکہ ملازمتوں کی کمی نے لاکھوں نوجوانوں کو شرقِ اوسط، جنوبی کوریا اور ملائیشیا جیسے دیگر ممالک میں کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان واقع تیس ملین آبادی کے ملک میں جمعہ کے روز حالات دوبارہ معمول پر آ گئے۔ دکانیں دوبارہ کھل گئیں، سڑکوں پر گاڑیاں واپس آ گئیں اور پولیس نے بندوقیں چھوڑ کر دوبارہ ڈنڈے اٹھا لیے۔