امریکی جج کا محمود خلیل کو بے دخل کر کے عرب ملک بھیجنے کا حکم

خلیل امریکا میں قانونی طور پر مستقل رہائش رکھتا ہے، اس کی شادی ایک امریکی شہری سے ہوئی ہے اور اس کا ایک بیٹا ہے جو امریکا میں پیدا ہوا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا میں ایک مقامی جج نے فلسطین کے حامی کارکن محمود خلیل کو امریکا سے الجزائر یا متبادل طور پر شام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

لویزیانا کے امریکی جج جیمی کومانس نے بدھ کے روز جاری اپنے فیصلے میں لکھا "ہم نے مدعا علیہ کو امریکا سے بے دخل کر کے الجزائر یا متبادل طور پر شام بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے"۔ انھوں نے اس فیصلے کی وجہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حامی احتجاجی تحریک کے اس رہنما کے قیام کی درخواست میں پائی گئی بے ضابطگیوں کو قرار دیا۔

فیصلے میں امیگریشن مقدمات کے ماہر جج نے کہا کہ محمود خلیل (30 برس) نے گرین کارڈ کے لیے درخواست میں تمام معلومات ظاہر نہیں کیں۔ ان کے مطابق یہ کسی غیر تجربہ کار یا غیر تعلیم یافتہ درخواست گزار کی غفلت نہیں تھی، بلکہ عدالت کو یقین ہے کہ مدعا علیہ نے دانستہ طور پر ایک یا ایک سے زائد بنیادی حقائق کو توڑا مروڑا۔

خلیل نے فوری طور پر اس فیصلے کی مذمت کی اور امریکی سول لبرٹیز یونین کے جاری کردہ بیان میں کہا "یہ حیرت کی بات نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ میری آزادیِ اظہار کی وجہ سے انتقام لینا جاری رکھے ہوئے ہے۔"

خلیل نے مزید کہا "ان کی تازہ کوشش ایک جعلی امیگریشن عدالت کے ذریعے، ایک بار پھر ان کا اصل چہرہ دکھا رہی ہے۔"

خلیل امریکا میں مستقل طور پر قانونی رہائش رکھتے ہیں، ان کی شادی ایک امریکی شہری سے ہوئی ہے اور ان کا ایک بیٹا ہے جو امریکا میں پیدا ہوا ہے۔ اس کے باوجود انھیں مارچ سے امیگریشن حکام نے تین ماہ کے لیے حراست میں رکھا اور وہ بدستور ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے اس سابق طالب علم کو ملک گیر فلسطین نواز طلبہ احتجاجات کے اہم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جون میں رہا ہونے کے باوجود وہ مسلسل وفاقی حکام کی جانب سے ملک بدری کی دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے خلیل کی ملک بدری کی کوشش کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ امریکا میں ان کا مزید قیام "امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ممکنہ طور پر سنگین نتائج" پیدا کر سکتا ہے۔

خلیل کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں بڑی امریکی جامعات کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ انھوں نے کولمبیا، ہارورڈ اور دیگر جامعات کو نشانہ بنایا، غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے پر تنقید کی، جامعات کے وفاقی فنڈز کم کیے اور خبردار کیا کہ ان کا سرکاری الحاق بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں