میں نے چارلی کرک کو آگاہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کا صدر بن سکتا ہے : ٹرمپ
امریکی صدر کے مطابق کرک کو اپنی رائے کے اظہار کے سبب قتل کیا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ انھوں نے اپنے دائیں بازو کے حلیف اور آنجہانی کارکن چارلی کرک سے کہا تھا کہ مستقبل میں وہ ملک کے صدر بن سکتے ہیں۔
لندن میں جمعرات کے روز برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کِرک کو "ایک عظیم امریکی" قرار دیا اور کہا کہ اس کی موت "اپنی رائے کے اظہار" کے باعث ہوئی۔
ٹرمپ نے مزید کہا "میں نے اُس سے کہا تھا ... چارلی ، تمہارے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ ایک دن تم امریکہ کے صدر بنو"۔
امریکی صدر نے برطانوی شہریوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کرک کے قتل پر تعزیت کی۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور برطانیہ مل کر "آزادی کی عظیم روایات کے دفاع کی ایک تحریک" کی قیادت کریں گے۔ یہ بات برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ نے بتائی۔
دائیں بازو کے کارکن اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک کو گزشتہ ہفتے امریکی ریاست یوٹا میں ایک عوامی تقریب کے دوران گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
حکام نے مشتبہ قاتل ٹائلر روبنسن کو گرفتار کر کے اس پر سات الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں سنگین قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے جیسے الزامات شامل ہیں۔
ریاستی حکام نے اس واقعے کو "سیاسی قتل" قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ سزائے موت کے لیے مقدمہ چلائیں گے۔
ٹرمپ نے الزام لگایا کہ "انتہا پسند بائیں بازو" کی زبان نے ان کے حلیف کے قتل میں کردار ادا کیا۔ امریکی صدر کے مطابق کرک "سچ اور آزادی کا شہید" تھا۔
کرک نے کوئی عوامی یا منتخب عہدہ نہیں سنبھالا تھا، لیکن وہ عوامی قدامت پسند سیاست میں ایک با اثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ وہ نوجوانوں کی تنظیم ’’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘‘ کی قیادت کرتا تھا، ایک مقبول پوڈکاسٹ کا میزبان تھا اور سوشل میڈیا پر اس کے لاکھوں فالوورز ہیں۔