البانیا : حکومت میں پہلی "ورچوئل وزیر" سرکاری طور پر متعارف
اپوزیشن لیڈر کے مطابق "ڈیلا ایک تشہیری فریب ہے" جس کا مقصد حکومتی بد عنوانی پر پردہ ڈالنا ہے
البانیا نے جمعرات کو با ضابطہ طور پر اپنی حکومت میں پہلی "ڈیجیٹل وزیر" متعارف کرائی ہے۔ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے استعمال سے انتظامی امور کو آسان بنانا اور بد عنوانی سے نمٹنا ہے۔
یہ ورچوئل خاتون وزیر جسے "ڈیلا" (البانی زبان میں "سورج") کا نام دیا گیا ہے، وزیر اعظم ایڈی راما کی کابینہ میں شامل کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام پارلیمنٹ میں حکمران سوشلسٹ پارٹی کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور کیا گیا، اگرچہ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کی۔
اگرچہ "ڈیلا" صدر بیرم بیگائی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری وزارتی فہرست میں شامل نہیں، لیکن دستاویز میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم راما "مصنوعی ذہانت کی ورچوئل خاتون وزیر (ڈیلا) کے قیام اور اس کے کام" کے ذمہ دار ہیں۔
ماضی میں "ڈیلا" محض ایک چیٹ بوٹ کے طور پر سرکاری ویب سائٹوں پر موجود تھی، لیکن اب مقامی میڈیا کے مطابق اسے ایک ایسی خاتون کی شکل میں بصری طور پر پیش کیا گیا ہے جو روایتی البانوی لباس میں ملبوس ہے۔ اس کی ظاہری صورت اداکارہ انیلا بیشا سے متاثر ہے۔
وزیر اعظم راما کے مطابق یہ قدم "قومی ماہرین، بیرون ملک مقیم البانویوں اور غیر ملکی ماہرین" کو اکٹھا کر کے اداروں کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کے پلیٹ فارموں میں تبدیل کرے گا۔
پارلیمانی اجلاس کے دوران "ڈیلا" ایک وڈیو کے ذریعے ظاہر ہوئی اور خود کو "وزیر برائے ریاستی امورِ مصنوعی ذہانت" کے طور پر متعارف کرایا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس کا مشن حکومت کے روزمرہ کام کو آسان بنانا ہے۔
تاہم ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے تنقید کی ہے کہ انتظامی فیصلے مصنوعی ذہانت کے سپرد کرنا مسئلہ والی بات ہو گی۔ آئی ٹی ماہر ایرجون کورائی نے "بلقان انسائٹ" جریدے میں لکھا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت سرکاری خریداری کے شعبے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن احتساب ہمیشہ انسانوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔
اپوزیشن کے سربراہ جازمینت باردی نے "ڈیلا" کو "تشہیری فریب" قرار دیا جس کا مقصد حکومتی بد عنوانی پر پردہ ڈالنا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غیر آئینی ہے، کیونکہ دستور میں واضح ہے کہ وزرا کو البانوی شہری ہونا چاہیے، بالغ ہونا چاہیے اور ذہنی طور پر مکمل اہلیت کا حامل ہونا چاہیے۔