شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشيبانی نے جمعہ کے روز امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اپنے ملک کے سفارت خانے کی عمارت پر قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر دمشق کی جانب سے یہ امید ظاہر کی گئی کہ شام پر عائد تمام پابندیاں، بشمول سیزر ایکٹ، ختم کر دی جائیں گی۔
بالزغاريد والتصفيق الحار.. الشيباني يرفع العلم السوري على سفارة سوريا في واشنطن بعد 11 عاماً من الإغلاق#العربية pic.twitter.com/VqpD7oX6cA
— العربية (@AlArabiya) September 19, 2025
الشيبانی نے جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خزانہ کے متعدد حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے شام، ٹام براک بھی شریک تھے۔
اس ملاقات میں شامی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جوڑنے کے محفوظ اور بہترین ذرائع پر بات چیت کی گئی۔ ساتھ ہی دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مشترکہ تعاون کو بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ یاد رہے کہ یہ ملاقات شامی وزیرِ خارجہ کے دورہ امریکہ پر جامع مذاکرات کا حصہ تھی۔
اپنے دورہ امریکہ کے دوران الشيبانی نے کئی ارکانِ کانگریس سے بھی ملاقاتیں کیں، جس میں دو طرفہ تعلقات اور شام پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان پابندیوں سے عارضی چھوٹ دی تھی، تاہم انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کانگریس میں ووٹنگ ضروری ہے۔
2019 میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران سیزر ایکٹ پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت شامی فوج اور ان دیگر افراد پر پابندیاں عائد کی گئیں جن پر خانہ جنگی کے دوران مظالم کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔