یورپی کمیشن کی صدر اورسولا فون ڈیر لاین نے اگرچہ سات اکتوبر کے حملوں کی مذمت کی تاہم انہوں نے اسرائیل کے خلاف مجوزہ یورپی پابندیوں کا دفاع بھی کیا۔
انہوں نے یورپی اخبارات کے اتحاد "لینا" کو تحریری انٹرویو میں کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے ہولناک حملوں نے اسرائیل کو شدید ہلا دیا، لیکن اس کے باوجود حالیہ واقعات کو نہایت تشویشناک قرار دیا، بالخصوص "انسانی ساختہ قحط" اور فلسطینی اتھارٹی کے مالیاتی خشک سالی کے تناظر میں اسرائیلی اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
جرمن سیاست دان اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن فون ڈیر لاین نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی منصوبہ جس میں علاقے "ای-1" میں بستیاں بسانے کی تجویز ہے مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے عملاً کاٹ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم نے حالیہ مہینوں میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی واضح کوشش دیکھی ہے۔ اسی لیے یورپی کمیشن نے آگے بڑھنے کے لیے ہدفی اور متناسب اقدامات کی تجویز دی ہے"۔
گذشتہ بدھ کو فون ڈیر لاین نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے جواب میں جن پر کئی ممالک نے شدید تنقید کی نیتن یاھو حکومت کو راستہ بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے متعدد پابندیوں کی تجاویز پیش کیں۔
ان تجاویز میں اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی سہولتوں کی منسوخی بھی شامل ہے، جس سے یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی 37 فیصد اسرائیلی مصنوعات متاثر ہوں گی۔
اسی طرح انتہا پسند اسرائیلی وزراء بالخصوص وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی، اس کے ساتھ حماس کے ارکان، بعض فلسطینی جہادیوں اور پرتشدد یہودی آبادکاروں کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا۔
جرمنی کی حکومت آئندہ اکتوبر میں یورپی سربراہی اجلاس کے دوران ان تجاویز پر اپنا موقف دے گی۔ البتہ ان تجاویز کی منظوری کے لیے 27 میں سے کم از کم 15 رکن ممالک اور یورپی آبادی کے 65 فیصد کی نمائندگی درکار ہوگی۔ روم یا برلن کی مخالفت کی صورت میں ان تجاویز کی منظوری مشکل ہوگی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے یورپی کمیشن کی سفارشات کو "سیاسی اور اخلاقی طور پر مسخ شدہ" قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ انہیں قبول نہیں کیا جائے گا۔
دو ریاستی حل کانفرنس
ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر انالینا بیربوک نے کہا ہے کہ نیویارک میں دو ریاستی حل کانفرنس اسرائیلی حکومت پر غزہ جنگ کے حوالے سے دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
سابق جرمن وزیر خارجہ نے ہفتہ کو ریڈیو "ڈوئچلینڈ فنک" کو بتایا کہ کانفرنس میں کئی ممالک اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر اپنی مخالفت کا اظہار کریں گے، جیسے غزہ میں امدادی سامان کی رکاوٹ یا شہری علاقوں پر مسلسل حملے۔
منگل سے جنرل اسمبلی کا اجلاس نیویارک میں شروع ہو رہا ہے، جس میں تقریباً 150 سربراہانِ مملکت و حکومت شریک ہوں گے۔ اسی کے موقع پر دو ریاستی حل کانفرنس منعقد کی جائے گی۔
فرانس، بیلجیئم اور کینیڈا جیسے بڑے ممالک اس موقع پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی دستاویز میں جنگ بندی، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، غزہ میں حماس کی حکمرانی کے خاتمے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور سات اکتوبر 2023 کے حملوں کی مذمت جیسے مطالبات شامل ہوں گے۔