اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی مخالفت نہیں کی ہے۔ مگر دو شرائط کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کہا ہے کہ اولا اسرائیلی کے سارے قیدیوں کو حماس چھوڑ دے اور ثانیاً حماس خود کو اقتدار سے الگ کر کے پیچھے ہٹ جائے۔ وہ نیو یارک میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہی تھیں۔ وہ آج بدھ کے روز جنرل اسمبلی کے اجلاس سے بھی خطاب کریں گی۔
یاد رہے اٹلی نے خود کو ان ملکوں سے دور رکھا ہے جنہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ ان تسلیم کرنے والے ممالک میں برطانیہ، فرانس سمیت کئی دیگر یورپی اقوام بھی شامل ہیں۔
تاہم اٹلی کی انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی وزیر اعظم میلونی نے وضاحت جاری کی ہے کہ وہ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی ہرگز مخالف نہیں ہیں۔ لیکن وہ چاہتی ہیں ایک وقفے کے ساتھ وہ فلسطینی ریاست کو امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی معیت میں تسلیم کریں۔
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میلونی کا مؤقف تھا ہمیں بھی فلسطینیوں کی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے مگر اپنی کچھ ترجیحات کے ساتھ کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاجلد اٹلی کا حکمران اتحاد پارلیمنٹ میں ایک تحریک پیش کرے گا جس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دو شرائط بھی رکھی جائیں گی جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق وہ ذاتی طور پر فلسطینیوں کی ریاست تسلیم کرنے کی حامی ہیں۔ لیکن خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے بغیر کوئی ریاست بھی فلسطینیوں کے مسائل حل کر سکے گی نہ مشکلات میں کمی لاسکے گی اور نہ ہی کوئی نظر آنے والے نتائج دے سکے گی۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ نے دہائیوں کی مغربی و امریکی طرز کی فلسطین پالیسی کے بر عکس فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔
یہ ایک بڑا علامتی اقدام ہے جس کی وجہ سے غزہ میں اسرائیلی ریاست کی جنگ لڑنے کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ دباؤ کا سامنا ہوگا۔
جبکہ میلونی کو فلسطینی ریاست کے بارے میں درمیانی بات کرنے اور غزہ جنگ کے خلاف سخت مؤقف ظاہر کرنے پر اٹلی میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہزاروں شہری فلسطینی ریاست کے حق میں اور غزہ میں اسرائیلی ریاست کی جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر سخت احتجاج کیا ہے۔
یہ مظاہرین روم میں احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم میلونی سے غزہ جنگ کے بارے میں ٹھوس مؤقف کا مطالبہ کررہے تھے۔ یورپی عوام اسرائیل کی اندھی حمایت کی پالیسی کی حمایت سے انکاری ہو رہے ہیں۔ خصوصا نوجوانوں اور خواتین میں اسرائیلی بیزاری بڑھ رہی ہے۔