فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، اٹلی کی طرف سے سخت مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی ناکہ بندی کی حکمت عملی کے تحت بھوک اور قحط سے فلسطینی بچوں اور بڑوں کو قتل کرنے کی جاری اسرائیلی ریاست کی مہم کے خلاف انسانی حقوق کے لیے بین الاقوامی سطح پر متحرک کارکنوں، مختلف ممالک کے موجودہ اور سابق پارلیمنٹیرینز اور رضاکاروں کے ہمراہ غزہ کی طرف بڑھنے والے صمود فلوٹیلا پر کھلے سمندر میں اسرائیلی حملوں کی اٹلی نے شدید مذمت کی ہے۔

اٹلی کی انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے یورپی ملکوں کی حالیہ مہم کےںدوران بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک روز قبل کہا کہ وہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گی۔

مگر اٹلی میں شہریوں کی طرف سے سخت دباؤ اور احتجاج کی صورتحال منگل کے روز بھی دیکھنے میں آئی کہ اٹلی کے ہزاروں شہری فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے مطالبے کے ساتھ اس وقت سڑکوں پر نکل آئے جب وزیر اعظم میلونی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں موجود تھیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کے بھوک اور قحط کے ساتھ اسرائیلی ریاست کی بد ترین بمباری سے جاں بحق ہونے والوں کے حق میں آواز اٹھانے والے فلوٹیلا پر حملہ کردیا۔

فلوٹیلا میں اٹلی کے انسانی حقوق کے حامی کارکنوں کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ جن کی زندگیوں کو اسرائیلی فوج خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس پر اٹلی میں جاری احتجاج میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔

اٹلی کے وزیر دفاع گوئڈو کروسیٹو نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے حملے کی بدھ کے روز سخت مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا یہ فلوٹیلا غزہ کے بے گھر ہو چکے اور جنگ زدہ شہریوں کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لیے غزہ جارہے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ خوراک بھی غزہ کے لوگوں کے لیے جارہا ہے۔ لیکن اسرائیلی ریاست نے اس فلوٹیلا پر بھی حملہ کر دیا ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔

وزیر خارجہ اٹلی نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے ساتھ غزہ کے لیے جانے والی خواتین اور مردوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

انسانی بنیادوں پر غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اس قافلے میں شامل کئی کشتیوں کو اب تک حملے کا نشانہ بنا کر کھلے سمندروں میں انسانی حقوق کارکنوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جا چکی ہیں۔

اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فلوٹیلا کو غزہ میں داخل نہیں پونے دیا جائے اور ہر قیمت پر روکا جائے گا۔

وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا انسانی حقوق کارکنوں کے علاوہ پارلمنٹ کے ارکان بھی فلوٹیلا کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق یونان سے غزہ کی طرف روانگی کے بعد فلوٹیلا کے آس پاس منگل کی رات سے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں