اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر استقبالیہ تقریب کے دوران شامی صدر کی ٹرمپ سے ملاقات

سانا نیوز ایجنسی نے الشرع اور ٹرمپ کے مصافحے کی تصاویر جاری کیں، اس موقع پر خاتونِ اوّل میلانیا بھی موجود تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے صدر احمد الشرع نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق یہ ملاقات ایک استقبالیہ تقریب میں ہوئی جو صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیہ نے دیا۔ دونوں رہنماؤں کی مصافحہ کرتے ہوئے تصاویر بھی جاری کی گئیں، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ یہ ٹرمپ اور الشرع کی دوسری ملاقات تھی، اس سے پہلے مئی میں ریاض میں دونوں رہنما مل چکے ہیں۔

الشرع نے بدھ کو جنرل اسمبلی میں خطاب کیا جس میں شام کی داخلی صورت حال، بیرونی تعلقات اور تعمیرِ نو کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور 1974 کے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کو دہرایا۔

اپنے خطاب میں الشرع نے کہا کہ شام کی کہانی درد اور امید کا امتزاج ہے، یہ حق و باطل کی ازلی جنگ کا ایک باب ہے جس میں کمزور کے حق کا سہارا صرف خدا ہے جب کہ طاقت ور باطل تباہی کے تمام ہتھیار رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی سرزمین تہذیبوں کی گہوارہ رہی ہے لیکن پچھلے ساٹھ برس سے ایک جابرانہ نظام کے تسلط میں رہی جس نے عوام کو ظلم، محرومی اور جبر کا شکار بنایا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ سابقہ نظام نے قتل و غارت، اذیت رسانی، جبری ہجرت، فرقہ واریت اور منشیات کے پھیلاؤ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ان کے مطابق اس دور میں تقریباً دس لاکھ شہری مارے گئے، لاکھوں کو قید یا اذیت دی گئی، 1.4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے اور بیس لاکھ مکانات تباہ ہوئے۔ الشروع نے مزید کہا کہ دو سو سے زیادہ بار شامی عوام کو کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا گیا۔

الشرع نے کہا کہ ایسے حالات میں عوام کے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ صف بند ہو کر ایک فیصلہ کن معرکہ کریں۔ ان کے مطابق عوامی جدوجہد نے ساٹھ برس پرانے جابرانہ نظام کا خاتمہ کر دیا، اور یہ فوجی کارروائی عوام کے لیے رحمت اور انصاف کی علامت بنی جس میں شہریوں کا قتل یا جبری ہجرت شامل نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ شامی عوام نے مظلوموں اور شہداء کے خاندانوں کا حق دلایا، لاکھوں مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار کی اور منشیات کی اس تجارت کو ختم کیا جو سابقہ نظام کے دور میں دنیا بھر تک پھیل گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں