مصر کا غزہ کی جنگ کے بعد کے لیے فلسطینی فورسز کی تربیت شروع کرنے کا اعلان

اسلحہ رکھنے کا واحد اور مکمل اختیار فلسطینی ریاستی اداروں کو حاصل ہونا چاہیے : مدبولی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصری وزیرِاعظم مصطفی مدبولی نے کہا ہے کہ مصر نے فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور بین الاقوامی برادری کی مدد سے اس عمل کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ہتھیار رکھنے کا واحد اور مکمل اختیار فلسطینی ریاستی اداروں کو ہونا چاہیے، تاکہ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں اطراف کو سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جا سکیں۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر "غزہ کا اگلا روز اور استحکام کے لیے تعاون" کے عنوان سے منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مدبولی نے کہا کہ غزہ پر کسی گروہ یا تنظیم کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بلکہ تمام مسلح تنظیموں کو اپنا اسلحہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہو گا۔

"غزہ کا اگلا روز اور استحکام کے لیے تعاون" کے عنوان سے اجلاس - نیویارک ، ستمبر 2025
"غزہ کا اگلا روز اور استحکام کے لیے تعاون" کے عنوان سے اجلاس - نیویارک ، ستمبر 2025

اسلحہ لیا جانا

مصری وزیرِاعظم نے کہا کہ ماضی میں عسکری گروہوں سے اسلحہ لینے کے تمام کامیاب تجربات کسی سیاسی تصفیے کے حصے کے طور پر ہوئے۔ ان کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں اور غزہ کی تباہی نے دو سالوں میں بھی حماس کو ختم نہیں کیا اور نہ اس کا اسلحہ چھینا جا سکا، اس لیے محض فوجی یا سکیورٹی اقدامات سے یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے تجویز دی کہ عالمی برادری ایک بین الاقوامی مشن تعینات کرے جس کی ذمے داریاں سلامتی کونسل طے کرے اور جو ایک جامع سیاسی پیکیج کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت پیش رفت کرے۔ اس مشن کی اولین ذمے داری فلسطینی اتھارٹی کو با اختیار بنانا ہونا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو غزہ اور مغربی کنارے کو مزید تقسیم کریں۔

ریاستِ فلسطین کا دائرہ عمل

مدبولی نے زور دیا کہ اس مقصد کے لیے امریکا، اسرائیل اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی شرکت و ضمانت کے ساتھ ایک سیاسی اتفاقِ رائے نا گزیر ہے۔ اگر سیاسی دائرہ عمل اور واضح لائحہ عمل کے بغیر صرف سکیورٹی اقدامات شروع کیے گئے تو یہ رکاوٹوں اور نئے تنازعات کو جنم دے گا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو معاہدوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لیے زمینی سطح پر امریکی کردار بھی ضروری ہے۔

مدبولی نے کہا کہ مصر فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی اور ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے کسی بھی بین الاقوامی مشن کے قیام کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔

یہ اجلاس فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کی دعوت پر منعقد ہوا تھا جس میں سعودی وزیرِخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں غزہ کی موجودہ صورت حال پر بات ہوئی اور فوری جنگ بندی، فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے غزہ کا انتظام، اسے مغربی کنارے سے جوڑنے، کسی بھی قسم کے انضمام یا جبری ہجرت کی مخالفت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ صدر محمود عباس کی درخواست کے مطابق فلسطینی عوام کے تحفظ، استحکام، تعمیرِ نو اور سماجی و معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی پر بھی گفتگو ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں