فی الحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کریں گے: نیوزی لینڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے جمعہ کو نیویارک میں کہا، نیوزی لینڈ فی الحال فلسطین کی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا لیکن وہ دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہے۔

پیٹرز نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا، "جنگ جاری رہنے کے دوران حماس غزہ کی ڈی فیکٹو حکمران بنی ہوئی ہے اور آئندہ اقدامات کے بارے میں کوئی بات واضح نہیں ہے۔ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے بارے میں کئی سوالات باقی ہیں اس لیے اس وقت نیوزی لینڈ کو اسے تسلیم کرنے کا اعلان دانشمندی سے کرنا چاہیے۔"

پیٹرز نے مزید کہا، "ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے سے جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی ہیں کیونکہ اس طرح اسرائیل اور حماس اور زیادہ متضاد پوزیشنوں میں آ جائیں گے۔"

روایتی شراکت داروں آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ نے اتوار کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا لیکن نیوزی لینڈ کی پوزیشن اِن سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس اقدام سے یہ 140 سے زیادہ دیگر ممالک میں شامل ہو گئے جو فلسطینیوں کی مقبوضہ علاقوں پر مبنی ایک آزاد وطن بنانے کی خواہش کی حمایت کر رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی حکومت نے جمعے کے روز جاری کردہ ایک ہینڈ آؤٹ میں کہا، وہ ایک ایسے وقت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی امید رکھتی ہے جب زمینی صورتِ حال آج کے مقابلے میں امن اور مذاکرات کے زیادہ امکانات پیش کرتی ہو۔

نیوزی لینڈ کی اپوزیشن لیبر پارٹی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا، یہ ملک کو تاریخ کی غلط میں لے جائے گا۔

لیبر پارٹی کے ترجمان امورِ خارجہ پینی ہینارے نے کہا، "نیوزی لینڈ آج حکومت کے اس فیصلے پر مایوسی محسوس کرے گا۔ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیے بغیر شرقِ اوسط میں کوئی دو ریاستی حل یا پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں